اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 408
408 انہیں زندگی وقف کرنے سے روکتی ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ عورتوں میں جذباتی رنگ بہت غالب ہوتا ہے۔اگر اُن کے جذبات سے اپیل کی جائے تو وہ نیکی میں کہیں کی کہیں نکل جاتی ہیں۔ایک جنگ میں حضرت سعد ممانڈ رتھے۔اُن کو ایک نو مسلم سپاہی کے متعلق شکایت پہنچی کہ اس نے شراب پیا ہے۔حضرت سعد نے اسے قید کر دیا۔حضرت سعد کے سرین پر گھمبیر تھا اس لئے سواری پر نہ بیٹھ سکتے تھے۔آخر عرشہ بنوایا گیا اور عرشہ پر نیم دراز ہو کر حضرت سعد ا حکام فرماتے رہے۔جہاں حضرت سعد کا خیمہ تھا اس کے پاس ہی وہ سپاہی قید تھا۔جس وقت لڑائی کے نعرے بلند ہوتے یا لڑائی کے میدان سے کوئی افسوسناک آواز آئی تو یہ نومسلم غصے کی وجہ سے زنجیر کو کھینچتا اور کہتا اے کاش ! میں آج جنگ میں شریک ہوتا۔کوئی مسلمان ایسا ہے جو مجھے آزاد کردے۔گو میں گنہگار تو ہوں لیکن اسلام کا در دمیرے سینے میں دوسروں سے کم نہیں۔مگر مسلمان سپاہی اُس کو آزاد کرنے کی جرات نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ حضرت سعد کی ناراضگی سے ڈرتے تھے۔آخر ان کی بیوی نے کہا کہ خواہ کچھ ہو جائے میں اس کی زنجیر کھول دیتی ہوں مجھ سے اس کی یہ حالت دیکھی نہیں جاتی۔انہوں نے اس کی زنجیر کھول دی اور اسے آزاد کر دیا۔وہ منہ پر نقاب ڈال کر مسلمانوں میں شامل ہو گیا۔مسلمان لشکر کے ساتھ مل کر وہ جس جگہ حملہ کرنا باقی لشکر کے دل بھی بڑھ جاتے تھے۔جب شام کو لڑائی بند ہوئی تو وہ بھاگ کر اپنی جگہ پر آ گیا اور حضرت سعد کی بیوی نے اس کو پھر ز بیر لگادی۔حضرت سعد کو شک پڑتا تھا کہ آج حملہ کے وقت فلاں آدمی معلوم ہوتا تھا۔کیونکہ حملہ تو اسی طرح کرتا تھا۔پھر کہتے ہیں وہ تو قید ہے۔وہ نہیں کوئی اور ہوگا۔اگلے دن پھر جب لڑائی شروع ہوئی تو حضرت سعد کی بیوی نے پھر اسے کھول دیا اور وہ پھر مسلمان لشکر میں حاملا اور نہایت شجاعت اور بہادری سے دشمن کے لشکر پر حملہ کرتارہا۔آخر شام کو جب سلمانوں کو فتح ہوئی اور حضرت سعد کو شک پڑ گیا کہ حملہ کے وقت مجھے وہی سپاہی معلوم ہوتا تھا جسے میں نے قید کیا ہوا ہے۔بیوی سے کیا تمھاری شرارت معلوم ہوتی ہے۔معلوم ہوتا ہے تم نے اسے کھولا تھا میں تمھیں قانون شکنی کی سزا دوں گا۔بیوی نے کہا آپ جو سزا چاہیں مجھے دیں۔لیکن میری غیرت نے یہ برداشت نہ کیا کہ میرا خاوند تو محض لڑائی کا نظارہ دیکھتار ہے اور جس شخص کو اسلام کا اس قدر درد ہو کہ وہ لڑائی کی آواز پر زنجیر کوتوڑنے کی کوشش کرے اُسے اس طرح قید رکھا جائے۔بیوی کی یہ دلیرانہ بات سن کر حضرت سعد کا غصہ جاتا رہا اور