اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 398
398 روپیہ اس عمارت پر خرچ آئے گا۔میں سمجھتا ہوں کہ ہماری جماعت کی مستورات کے لئے اس رقم کا جمع کرنا کوئی بڑی بات نہیں۔میں نے دیکھا ہے باوجود اس کے کہ گو ہماری جماعت کی مستورات دوسری مستورات سے تعلیم میں زیادہ نہیں ہیں مگر اُن کے اندر خدا کے فضل سے قربانی کی ایسی روح اور ایسا اخلاص پایا جاتا ہے کہ چندہ کی جو تحریک بھی اُن کے سامنے پیش کی جائے فورا ہی وہ تحریک کامیاب ہو جاتی ہے۔آج سے میں سال قبل میں نے برتن میں مسجد بنانے کے لئے جماعت کی عورتوں میں چندہ کی تحریک کی تو اس میں نمایاں کامیابی ہوئی اور فوراہی ستر ہزار روپیہ عورتوں نے جمع کر دیا۔میں سمجھتا ہوں ہندوستان میں کسی قوم کی عورتیں بھی ایسی نہیں جن کے اندر قربانی کا ایسا مادہ پایا جاتا ہو جیسا کہ ہماری جماعت کی عورتوں کے اندر پایا جاتا ہے۔اگر ہندوستان کی چھوٹی سے چھوٹی قوم کے برابر بھی ہماری تعداد ہوتی تو آج خدا کے فضل سے ہمارے مرد تو مرد ہماری عورتیں بھی دین کی خاطر اتنی رقم پیش کر دیتیں کہ یورپ کے مال دار ممالک کے لوگ بھی مذہب کی خاطر اتنی رقم پیش نہ کر سکتے۔اور نہیں کیا کرتے۔اس وقت ہماری کل تعداد چار پانچ لاکھ ہے اور سکھوں کی تعداد جو ہندوستان میں سب سے چھوٹی اقلیت میں چالیس لاکھ ہے۔گویا ہم اُن سے بھی آٹھواں دسواں حصہ ہیں۔لیکن اگر ہماری تعداد سکھوں کے برابر بھی ہوتی تو ہماری جماعت کی عورتیں مذہب کی خاطر ا تا چندہ جمع کر دیتیں کہ یورپ کی بڑی بڑی مال دار قومیں بھی مذہب کی خاطر اتنا چندہ جمع نہ کر سکتیں۔اور نہیں کیا کرتیں۔پس قربانی کا مادہ تو ہماری جماعت کے اندر خدا تعالیٰ کے فضل سے پایا جاتا ہے اور وہ ایمان بھی اسے حاصل ہے جو قربانی کرایا کرتا ہے۔صرف ہماری طرف سے ہی کوشش میں کوتاہی ہوتی ہے۔پس یہ سوال تو پیدا ہی نہیں ہوتا کہ یہ روپیہ کہاں سے آئے گا۔کیونکہ جب ہم خدا تعالیٰ کے دین کی خاطر کسی کام کا ارادہ کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ کام ہو جائے تو خدا تعالئے فرماتا ہے گن۔اور وہ ہو جاتا ہے۔پس روپیہ کی دقت نہیں۔روپیہ تو ہماری جماعت کی عورتیں خدا تعالیٰ کے فضل سے آسانی سے ادا کر دیں گی۔ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ لجنہ اماء اللہ کے مرکزی دفتر کو منظم کیا جائے اور مستقل کام کرنے والی عورتیں دفتر میں رکھی جائیں اور ہر جگہ کی عورتوں کے پتے دریافت کر کے اُن کے ساتھ خط و کتابت کی جائے اور ہر جگہ لجنہ قائم کی جائے اور وہاں کی عورتوں کو مظلم کیا جائے۔اس کے بعد جس طرح مردوں کے دو اجتماع ہوتے ہیں۔ایک یہ جلسہ سالانہ اور ایک مجلس شوری۔اسی طرح عورتیں بھی اس جلسہ