اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 397
397 جو بہت کام کر سکتی ہیں لیکن پہلے ان کو مفید اور کام دینے کے قابل بنانا پڑے گا۔اور جس طرح پہلے ہیرے کو تراشا جاتا ہے اور پھر وہ مفید اور زینت کا موجب ہوتا ہے اسی طرح عورتوں کی بھی اصلاح کرنی پڑے گی پھر وہ دین کے لئے مفید ہو سکیں گی۔پس لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے ابھی بہت لمبی منزل طے کرنی ہے اور بہت بڑا کام اُس کے سامنے ہے جس کے لئے رات اور دن قربانی کی ضرورت ہے۔اور ایسی عورتوں کی ضرورت ہے جو اپنے آپ کو دین کے لئے وقف کریں جس طرح مردوں نے اپنے آپ کو وقف کیا ہے۔پس میں لجند مرکز یہ کو ایک مہینہ کی مہلت دیتا ہوں کہ اس مہینہ کے اندر اندر یعنی جنوری ۱۹۴۵ ختم ہونے سے پہلے وہ اپنے دفتر کو منظم کرلیں۔دفتر کے لئے زمین بھی خریدی جا چکی ہے جو اہم طاہر مرحومہ کی یادگار ہے۔اس کی قیمت قرض لے کر ادا کر دی تھی۔یہ جگہ دارالا نوار کو جاتے ہوئے پریس کے قریب ہے جہاں سڑک کا موڑ ہے۔وہاں لجنہ کے دفاتر اچھی طرح بن سکتے ہیں۔یہ جگہ خالص احمدی علاقہ میں ہے جہاں عورتوں کو جمع ہونے میں کسی قسم کی تکلیف نہیں ہو سکتی۔اور پھر صدر انجمن احمدیہ کے دفاتر بھی وہاں سے قریب ہیں جہاں سے ضرورت کے موقع پر ہر قسم کی معلومات حاصل ہو سکتی ہیں۔جنگ کی وجہ سے پیدا شدہ مشکلات کی وجہ سے ہم فی الحال وہاں پر عمارت تو نہیں بنا سکتے۔زمین وقت پر ملک عمر علی صاحب سے خرید لی گئی تھی۔جو اس وقت ملک صاحب نے سلسلہ کی خاطر قربانی کر کے چار ہزار روپیہ میں دیدی تھی جو اُس وقت کی فیتوں کے لحاظ سے بھی سستی تھی۔اگر وہ اس سے زیادہ قیمت کا مطالبہ کرتے تو اُن کا حق تھا۔میں نے اُئِم طاہر مرحومہ سے کہا کہ تم ملک صاحب سے کہو کہ سلسلہ کے لئے اس زمین کی ضرورت ہے بغیر کسی نفع کے وہ یہ زمین سلسلہ کے لئے دیدیں۔چنانچہ انہوں نے بغیر کسی نفع لئے کے دیدی۔حالانکہ اس وقت بھی اس کی قیمت اس رقم سے زیادہ تھی جو انہوں نے لی۔اور اب تو موجودہ قیمتوں کے لحاظ سے وہ چھپیں تھیں ہزار روپیہ کی ہے۔اگر جنگ کے بعد وہاں عمارت بنائی جائے تو میرا اندازہ ہے کہ میں چالیس ہزار روپیہ عمارت پر خرچ آئے گا۔جس میں کچھ کمرے دفاتر کے لئے مخصوص ہوں ، تقریروں وغیرہ کے لئے ایک ہال ہو جس میں ہزار ڈیڑھ ہزار عورتیں جمع ہو کر اپنے اجلاس وغیرہ کرسکیں۔کچھ کمرے بطور مدرسہ کے ہوں۔کچھ کوارٹر بن جائیں تا کہ دفاتر وغیرہ میں کام کرنے والیاں وہاں رہ سکیں۔ایک لائبریری بھی ہو۔اِن سب کاموں کے لئے کم از کم پندرہ ہیں کمرے ہوں اور ایک ہال ہو جس میں اجلاس وغیرہ ہو سکیں۔میرا اندازہ ہے کہ غالبا تمیں چالیس ہزار