اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 385 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 385

385 بیان کی ہے وہ یہی ہے کہ مذہب اس لئے دنیا میں آتا ہے کہ انسان کا خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرے اور انسان کو بنی نوح انسان سے ہمدردی اور محبت کرنا سکھائے۔مذہب کی ساری تفاصیل یا خدا تعالیٰ سے محبت اور تعلق پیدا کرنے کے متعلق ہوتی ہیں۔اور یا بنی نوع انسان سے نیک تعلق رکھنے کے متعلق ہوتی ہیں۔نماز کیا ہے۔یہ اس تعلق کا اور اس محبت کا اظہار ہے جو بندے اور خدا کے درمیان ہوتی ہے۔جس طرح ایک ماں اپنے بچے کو یاد کرتی ہے۔جس طرح ایک بچہ اپنی ماں کو یاد کرتا ہے۔جس طرح بھائی ، بھائی کو یاد کرتا ہے۔جس طرح دوست، دوست کو یاد کرتا ہے جس طرح خاوند بیوی کو یاد کرتا ہے۔جس طرح بیوی خاوند کو یاد کرتی ہے اسی طرح ایک نیک انسان اپنے خدا کو فراموش نہیں کرتا اور دن میں متعدد بار اپنے خدا کو یاد کرتا ہے اسی کا نام عبادت ہے اور یہی نماز ہے۔ہم دیکھتے ہیں جہاں حقیقی محبت ہو وہاں کوئی شخص کسی کو اس کی یاد سے روک نہیں سکتا۔ایک ماں کو کتنا ہی سمجھاؤ کہ وہ اپنے بچہ کی یاد چھوڑ دے، بچہ کو کتناہی کہو کہ وہ اپنی ماں کو یاد نہ کرے، دوست کو کتنا ہی کہو کہ وہ اپنے دوست کو یاد نہ کرے، بھائی کو کتنا ہی کہو کہ وہ اپنے بھائی کو یاد نہ کرے، باپ کو کتنا ہی کہو کہ وہ اپنے بیٹوں کو یاد نہ کرے، بیٹوں کو کتناہی کہو کہ وہ اپنے باپ کو یاد نہ کریں، بیوی کو کتنا ہی کہو کہ اپنے خاند کو یاد نہ کرے یا خاوند کو کتنا ہی کہو کہ وہ اپنی بیوی کو یاد نہ کرے، وہ قطعاً اس بات کے لئے تیار نہیں ہوتے کہ جن کے ساتھ اُن کو محبت ہے وہ اُن کی یاد چھوڑ دیں کیونکہ اُن میں حقیقی محبت ہوتی ہے۔مگر انسانوں میں سے ہم دیکھتے ہیں کہ کئی ایسے ہیں جو اپنے اندر انسانیت کی حقیقت نہیں رکھتے۔وہ اپنے خدا کو کھلا بیٹھے ہیں۔اور وہ اس بات کے محتاج ہوتے ہیں کہ اُن کو یاد دلایا جائے کہ اُن کو کوئی پیدا کرنے والا ہے۔اور وہی اُن کا حقیقی مالک ہے۔اگر اُن کو یہ بات یاد کرا دی جائے تو پھر وہ اس بات کے محتاج ہوتے ہیں کہ اُن کے دل میں خدا تعالیٰ کی یاد تازہ رکھی جائے اور پھر وہ اس بات کے محتاج ہوتے ہیں کہ یاد دلا دلا کر خدا تعالیٰ سے اُن کا تعلق مضبوط کیا جائے۔یہ ایک کمزوری ہے جو انسان میں حیوانیت کی وجہ سے آئی ہے۔انسان چونکہ پیدائش کے لحاظ سے حیوانوں سے تعلق رکھتا ہے اس لئے جب اس پر حیوانیت غالب آجاتی ہے تو جہاں ہمیں ایسے انسان نظر آتے ہیں جو ہر قسم کے تعلقات پر خدا تعالی کو ترجیح دیتے ہیں اور دنیا کی محبت پر خدا تعالیٰ کی محبت کو مقدم رکھتے ہیں وہاں اس حیوانیت کے غالب آجانے کی وجہ سے ایسے انسان بھی نظر آتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کے تعلق کو بھلا کر حیوانوں کی طرح کھانے پینے ، عیش و آرام کرنے ، عمدہ اور آرائش کے سامان