اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 383 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 383

383 میں نے پہلے کہا تھا کہ ضرورت تو نہیں تھی کہ میں عورتوں کے جلسہ میں الگ تقریر کروں مگر پھر بھی چونکہ بعض امورایسے ہوتے ہیں جو عورتوں کے ساتھ خصوصیت سے تعلق رکھتے ہیں اور بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کی طرف عورتوں کو توجہ دلانا ضروری ہوتا ہے اس لئے بعض دفعہ ضرورت پیش آسکتی ہے کہ میں عورتوں کے جلسہ میں الگ تقریری بھی کروں مگر گزشتہ سالوں میں عورتوں کی طرف سے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ میں ضرور اُن کے جلسہ میں الگ تقریر کیا کروں۔یہ ایک فطری تقاضا ہے کہ ہر انسان اپنا حق چاہتا ہے میں اس تقاضا کو بھی رد نہیں کر سکتا۔لیکن میرے گلے کی حالت اس قسم کی ہے کہ تقریر بھی شروع نہیں کی اور گلا بیٹھ گیا ہے۔میں حیران ہوں کہ اس دفعہ میں کیونکر اپنی تقریریں مناسب طور پر کرسکوں گا۔بہر حال میں کچھ نہ کچھ عورتوں کے جلسہ میں بھی کہنا چاہتا ہوں۔خصوصاً اس لئے اس دفعہ بعض باتیں ایسی بھی ہیں جو عورتوں کے ساتھ مخصوص ہیں۔ہماری الہامی کتاب یعنی قرآن مجید ایک ایسی زبان میں نازل ہوئی ہے جو زبان اپنے اندر معنے رکھتی ہے یعنی اس میں ہر نام کے کوئی معنے ہوتے ہیں۔باقی زبانوں میں اگر کسی چیز کا نام بدل کر اس کی جگہ اور نام رکھ لیا جائے تو اُس کے معنوں میں فرق نہیں پڑے گا۔لیکن عربی کا نام اگر بدل کر اور نام رکھ دیا جائے تو یقیناً اس کے معنوں میں فرق پر جائے گا۔مثلاً اُتم کا لفظ لے لو۔اُتم کے معنے عربی زبان میں جڑ اور مقصود کے ہیں یعنی ایسی چیز جس میں سے اور چیزیں نکلیں۔اور جس کی طرف دوسرے متوجہ ہوں۔آپ اگر ماں کے لئے اتم کی جگہ عربی میں کوئی اور لفظ رکھ دیا جائے تو یہ معنے بالکل بدل جائیں گے۔لیکن اگر پنجابی میں یا اُردو میں ماں کی جگہ کوئی اور لفظ رکھ دیا جائے۔مثلا یاں کہ لیا جائے یا تاں کہہ لیا جائے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔چاہے ب، ان کہہ لیں یات۔ان کہہ لیں یا د ا ن کہہ لیں اور جو چاہیں اس سے مراد لے لیں معنوں پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔لیکن عربی کے لحاظ سے اگر ہم نام کو بدل دیں تو وہ نام بے معنی ہو جائے گا۔وہ صرف علامت ہو گی اُس کے کوئی معنے نہیں ہونگے جیسے ام کا لفظ ہے۔اس کی بجائے عربی میں اگر ہم گم کہہ دیں تو وہ صرف علامت رہ جائے گی۔اسکے دو معنے نہیں ہوں گے جو اتم کے لفظ میں پائے جاتے ہیں۔ماں کو عربی میں ام اس لئے کہتے ہیں کہ یہ بطور جڑ ہے بچوں کے لئے۔دوسرے بچے اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے اس کے محتاج ہوتے ہیں۔پس اُتم کے معنے عربی زبان میں اس چیز کے ہیں جو بطور جڑ کے ہو اور جس کی طرف