اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 376

376 لڑکیوں کی دینی تعلیم کے متلعق قادیان والوں کی کوتاہی میں نے بارہا کہا ہے مرد تو اس بات پر مجبور ہیں کہ ملازمتوں وغیرہ کے لئے انگریزی پڑھیں لیکن عورتیں مجبور نہیں ہیں۔ان کے لئے زیادہ تر دینی تعلیم ہی ہونی چاہیئے۔مگر مجھے افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ابھی تک اس کی طرف پوری توجہ نہیں کی گئی۔لڑکیوں کی تعلیم کے لئے دینیات کلا سر کھولی گئی ہیں مگر میں نے دیکھا ہے ان میں ایسی ہی لڑکیاں آتی ہیں جو انٹرس میں نہیں جاسکتیں اور جن کے نمبر زیادہ نہیں ہوتے۔جب قادیان والوں کا یہ حال ہے تو باہر کی جماعتوں کا اسی پر قیاس کیا جا سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے دینی تعلیم کے لئے ہر قسم کی سہولتیں مہیا فرما دی ہیں۔اور عورتیں اگر چاہیں تو آسانی سے دینی معلومات حاصل کر سکتی ہیں مگر باوجود ہر قسم کے سامان میسر آنے کے پھر بھی قادیان کے رہنے والوں میں کوتاہی پائی جاتی ہے اور دینیات کلاسز کی طرف زیادہ توجہ نہیں کرتے۔کام کی ذمہ داری ڈالنا پھر بڑی چیز یہ ہے کہ عورتوں پر کام کی ذمہ داری ڈال دی جائے۔ذمہ داری کے کام پر جب کسی کو مقرر کیا جاتا ہے تو اس میں سوچنے اور غور کرنے کا مادہ پیدا ہو جاتا ہے۔اور انسانی فطرت اللہ تعالیٰ نے بنائی ہے کہ وہ جتنا سوچے اُتنے ہی اُسے علوم کے مخفی خزانے ملتے جاتے ہیں اسی لئے قرآن کریم کا ایک پرت اللہ تعالی کی طرف سے انسانی دماغ میں رکھا گیا ہے اور اسی بناء پر اسے کتاب مکنون قرار دیا گیا ہے۔ایک قرآن تو ظاہر ہے۔اور چھپا ہوا ہر شخص کے پاس موجود ہوتا ہے۔لیکن اللہ تعالی نے اس کے ساتھ ہی قرآن کریم کا ایک اور ورق چھپا کر انسان کے دماغ میں رکھ دیا ہے۔جب انسان قرآن پڑھتا ہے اور اس کے احکام پر غور و فکر شروع کرتا ہے تو اس کی فطرت اس نذیر کے نتیجہ میں بیدار ہونا شروع ہو جاتی ہے اور وہ بجھتا ہے کہ یہ وہی باتیں ہیں جن کو میں پہلے سے مانتا ہوں۔یہی وجہ ہے کہ سچائی کو لوگ قبول کر لیتے ہیں کیونکہ ان کا اپنا دل بھی مانتا ہے کہ یہ باتیں سچی ہیں۔مگر فطرت کو اُبھارنے اور اس کے مخفی جو ہروں کو ظاہر کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ انسان پر ذمہ داری ڈال دی جائے۔جس کے سپر د ذمہ داری کا کوئی کام کیا جاتا ہے وہ غور کرنے کا عادی ہو جاتا ہے۔اور جب وہ غور کرتا ہے تو قرآن کریم کا وہ دوسرا ورق جو اس کے دماغ میں مخفی ہوتا ہے