اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 377
377 اپنے خزانے اُگلنے لگ جاتا ہے تب اس کے اندر قرآن فہمی کا مادہ ترقی کرتا ہے اور اس کے ذاتی علم میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔لجنہ اماءاللہ کے قیام کی غرض یہ ایک بہت بڑی غلطی ہے جو مسلمانوں سے ہوئی کہ انہوں نے عورتوں پر ذمہ داری نہ ڈالی۔اور اس طرح اُن کی فطر میں بیدار نہ ہوئیں۔لجنہ اماءاللہ کا قیام میں نے اسی لئے کیا ہے کہ عورتوں میں بھی اپنی ذمہ داری کا احساس پیدا ہو۔چنانچہ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب عورتوں میں سے کوئی پریذیڈنٹ ہوتی ہے کوئی سیکرٹری ہوتی ہے۔کوئی چندہ وصول کرنے پر مقرر ہوتی ہے۔کوئی نگرانی کا کام کرتی ہے۔اسی طرح اُن کے جلسے ہوتے ہیں جن کا انتظام عورتیں خود کرتی ہیں۔ان میں تقریریں کرتی ہیں۔پردہ کی پابندی کراتی ہیں۔لڑائی جھگڑوں کو دُور کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔نماز با جماعت کی ادائیگی کے لئے عورتوں کو ایک جگہ جمع کرتی ہیں۔اسی طرح اور کئی قسم کے دینی کام ہیں جو ذمہ داری کے اس بوجھ کے نتیجہ میں عورتیں بڑی خوش اسلوبی سے سر انجام دے رہی ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہورہا ہے کہ ذمہ داری کے ان کاموں کی وجہ سے کسی عورت میں قاضی کی قابلیت پیدا ہو جاتی ہے۔کسی میں محتسب کی قابلیت پیدا ہو جاتی ہے۔کسی میں انتظام کی قابلیت پیدا ہو جاتی ہے اور کسی میں معلمہ بننے کی قابلیت پیدا ہو جاتی ہے۔پس ذمہ داری کا احساس بھی عورتوں کی تربیت میں بہت محمد ہو سکتا ہے مگر ابھی اس کی طرف بہت کم توجہ کی گئی ہے قادیان میں لجنہ اماءاللہ نے اچھا کام کیا ہے مگر ابھی اس طرح کام نہیں کیا کہ ہر عورت اس نظام کا پُرزہ بن گئی ہو لیکن بہر حال لجنہ اماءاللہ کے قیام سے عورتوں میں بہت بڑی تبدیلی پیدا ہوئی ہے۔کئی عورتیں ایسی ہیں جنہیں اگر باہر جانے کا موقع ملے تو وہ تبلیغ کر سکتی ہیں۔دوسروں کو اپنی باتیں سمجھا سکتی ہیں اور ضرورت کے موقع پر اپنے جذبات کو قابو میں رکھ کر نہایت حجرات اور دلیری کا ثبوت دے سکتی ہیں۔احمدی عورتوں کی بہادری گزشتہ دنوں جب دہلی میں جلسہ کے موقع پر مخالفین نے شور مچایا اور پتھر پھینکے تو اس وقت سب عورتوں نے یہ شہادت دی کہ جس قدر غیر عورتیں جلسہ میں شامل تھی وہ گھبرا کر بولنے لگ گئیں۔مگر قادیان کی عورتوں