اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 30
30 ہراک نیکی کی جڑ یہ انتقا ہے اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے تو یہ بہت ضروری چیز ہے اس کے لئے سوچنا چاہیئے ہمارے کسی کام کا یہ نتیجہ نہ ہو کہ خدا تعالیٰ ناراض ہو جائے یا کسی انسان کو تکلیف پہنچے۔آجکل عورتوں میں یہ بات زیادہ پائی جاتی ہے کہ وہ دوسری کو تکلیف پہنچا کر خود کچھ حاصل کر لینا اچھا بجھتی ہیں۔مگر تقومی ایسا کرنے سے روکتا ہے۔پھر عورتیں ایک دوسری کو طعنے دیتی ہیں ہنسی کرتی رہتی ہیں اور عیب نکالتی ہیں اور آخر کارلڑائی شروع کر دیتی ہیں یہ سب باتیں تقومی کے خلاف ہیں۔اس قسم کے عیب تو عورتوں میں بہت سے ہیں اگر اُن کو بیان کرنے لگوں تو بہت دیر لگے گی اور آج میرے حلق میں درد بھی ہے اس لئے میں نے یہ اصل بتا دیا ہے کہ ہر ایک ایسا کام جس سے خدا تعالیٰ ناراض ہو یا اُس کی کسی مخلوق کے لئے دکھ اور تکلیف کا باعث ہو اس سے بچنا چاہیے۔اگر یہ بات پیدا ہو جائے تو تقویٰ اللہ حاصل ہو جاتا ہے۔خاتمہ یہ چند ایک باتیں جو میں نے نصیحت کے طور پر بیان کر دی ہیں۔اگر ان کو یاد رکھو گی اور اُن کے مطابق عمل کرو گی تو فائدہ اُٹھاؤ گی۔( افضل ۲۷ اکتوری کل) وعظ عمل کرنے کے لئے سنو یہ تقریر حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ۱۲۔اپریل ۱۹۳۰ ء کو بمقام سیالکوٹ مستورات کے سامنے پنجابی زبان میں فرمائی تھی جس کو ایڈیٹر صاحب الفضل نے اردو میں لکھا ان چند دنوں میں مجھے عورتوں کی طرف سے بہت سے رقعے ملے ہیں جن میں و المھتی ہیں کہ ہمیں بھی کچھ سنایا جائے۔اگر چہ یہ جوش قابل تعریف ہے لیکن خالی جوش اُس وقت تک کام نہیں دیتا جب تک انسان جو کہے اس پر عمل نہ کرے۔دیکھو اگر ایک شخص بھوکا ہو اور بھوک سے اُس کی جان نکل رہی ہو اُس کو کہو کہ کھانا کھالو۔کھانا کھا لولیکن کھانا دیا نہ جائے تو اُس سے اُس کا پیٹ نہیں بھر جائے گا۔اسی طرح وہ عورتیں جو دین کی باتیں سنتی ہیں اُن پر عمل نہیں کرتیں اُن کو بھی کچھ فائدہ نہیں ہوتا بلکہ ان عورتوں کی نسبت جن کو دین کی باتیں سنے کا موقعہ نہیں ملتا اُن کے لئے زیادہ خوف اور ڈر کا مقام ہے کیونکہ جو نہیں سنتیں وہ معذور بھی جا سکتی ہیں لیکن جو سُنتی ہیں اور پھر اُن پر عمل نہیں کرتیں وہ زیادہ مجرم اور گنہگار ہیں۔عام طور پر عورتیں وعظ کو ایک