اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 31

31 تماشا کجھتی ہیں۔جس طرح بچے کوئی تم شاد یکھتے ہیں اور پھر تھوڑی مدت کے بعد اسے بھلا دیتے ہیں اسی طرح عورتیں کرتی ہیں۔مردوں میں تو ایک جماعت ایسی ہے جو وعظ ونصیحت کی باتیں سنکر ان پر عمل کرتے جاتے ہیں لیکن عورتیں عام طور پر کچھ فائدہ نہیں اٹھا نہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ نہ اخلاق میں نہ دین میں نہ تھن میں نہ معاشرت میں ترقی کرتی ہیں اور نہ اُن کو کوئی فائدہ پہنچتا ہے۔اس میں شک نہیں کہ مردوں کی نسبت عورتوں کو کم وعظ ونصیحت کی باتیں سنے کا موقع ملتا ہے تاہم کچھ نہ کچھ تو وہ بھی سنتی ہیں اس لئے اُن کا یہ کہنا کہ مردوں جتنا اُن کو نہیں سنایا جاتا اُس وقت درست ہو سکتا ہے اور یہ کہنے کا انہیں اُس وقت حق پہنچتا ہے جبکہ جس قدر نہیں سنایا جاتا ہے اُس کو یا درکھیں اور اس پر عمل کریں۔ایک طالب علم اگر اپنا پہلا سبق یاد کر کے سنا دے تو پھر اُس کو یہ کہنے کا حق ہوتا ہے کہ اور سبق پڑھاؤ لیکن اگر وہ پہلا ہی سبق یاد نہیں کرتا تو اُسے اور پڑھانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔اسی طرح عورتوں کو جس قدر سنایا جاتا ہے اسکو اگر وہ یا درکھیں اور اُس پر عمل کریں تو اُن کا حق ہے کہ اور سنے کا مطالبہ کریں ورنہ نہیں۔پس تم بجائے اس کے کہ یہ کہو کہ ہمیں مردوں کی طرح لیکچر سُنائے جائیں جو کچھ منایا جا چکا ہو اس پر عمل کر کے دکھاؤ۔ورنہ اگر تم اُس پر عمل نہ کرو اور اور سننے کا مطالبہ کرو تو جو کچھ تمہیں سنایا جائے گا وہ مجبوری سے سنایا جائے گا اور اس کا کچھ فائدہ نہ ہوگا کیونکہ جو ایک بات کو ہی یاد نہیں رکھتا وہ دوسری کو کس طرح یا درکھے گا۔جو ایک روٹی ہضم نہیں کر سکتا وہ دوکس طرح ہضم کر لے گا۔پس اگر تم نے ان پہلی باتوں پر عمل نہیں کیا جو تمہیں سنائی جا چکی ہیں تو کیا امید ہو سکتی ہے کہ اور سنانے سے کچھ فائدہ اُٹھایا جائے گا۔پس میں پہلے تمہیں یہ نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ کسی وعظ کی مجلس میں تماشا کے طور پر شامل ہوتا اور وہ باتیں جو اُس میں سنائی جائیں اُن کو گھر جا کر بھلا دینا گناہ ہے اور اسکا کچھ فائدہ نہیں ہے۔وعظ سنانے کی غرض یہی ہوتی ہے کہ اُس کو یا درکھا جائے اور اُس پر عمل کیا جائے۔اچھا وعظ وہ نہیں جس میں سامعین کی تعریف کی جائے عام طور پر یہی دیکھا گیا ہے کہ عورتوں کو وعظ میں بھی خیال ہوتا ہے کہ اُن کے متعلق اس میں کیا کہا گیا ہے۔جلسہ پر جو عورتیں جاتی ہیں وہ یہی کہتی ہیں کہ فلاں مولوی صاحب کا وعظ بہت اچھا تھا اور فلاں کا اچھا نہیں تھا۔جب دریافت کیا گیا تو معلوم ہوا کہ جس وعظ میں اُن کی تعریف کی گئی اُس کو تو اچھا کہتی ہیں اور جس میں اُن کے نقص بیان کئے گئے اور اُن کی اصلاح کرنے کیلئے کہا گیا اُس کو نا پسند کرتی ہیں۔حافظ روشن علی