اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 356 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 356

356 میں آتا ہے کہ آدم تیرے گناہ کی یہ سزا ہے کہ تیری بیٹی تجھے نہیں بلکہ اپنے خاوند کو چاہے گی اور تیرا بیٹا تجھے نہیں بلکہ اپنی بیوی کو چاہے گا۔ایک شخص آتا ہے کہتا ہے اباجان خط آیا ہے بچہ بیمار ہے میں جاؤں تو باپ اُس کے احساسات کو مد نظر رکھ کر اجازت دیدیتا ہے کہ جاؤ۔حالانکہ اگر وہ احسان شناس ہوتا احساس رکھتا تو ماں کو نہ چھوڑ تا باپ کو نہ چھوڑتا بلکہ اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ دیتا وہ کہتا کہ سارے مر جائیں میں اپنے ماں باپ کو نہ چھوڑوں گا۔تو دنیا میں جن چیزوں کو تم نشان بجھتی ہو وہ نشان نہیں بلکہ نشان مٹانے والے ہیں۔ایک ہی چیز ہے جو باقی رہنے والی ہے اور وہ ہے الباقیات الصالحات۔وہ کام جو خدا کے لئے کروگی باقی رہے گا۔آج ابو ہریرہ کی اولا د کہاں ہے ، مکان کہاں ہیں لیکن ہم جنہوں نے نہ اولا د دیکھی نہ مکان دیکھے نہ جائداد دیکھی ہم جب ان کا نام لیتے ہیں تو کہتے ہیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ۔چند دن ہوئے ایک عرب آیا اُس نے کہا کہ میں بلال کی اولاد میں سے ہوں۔اُس نے معلوم نہیں سچ کہا یا جھوٹ مگر میرا دل اس وقت چاہتا تھا کہ میں اس سے چھٹ جاؤں کہ یہ اس شخص کی اولاد میں سے ہے جس نے محمد رسول اللہ اللہ کی مسجد میں اذان دی تھی۔آج بلال کی اولاد کہاں ہے، اسکے مکان کہاں ہیں ، اس کی جائداد کہاں ہے ؟ مگر وہ جو اس نے محمد رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں اذان دی تھی وہ اب تک باقی ہے اور باقی رہے گی۔پس سب چیزیں فنا ہو جاتی ہیں لیکن انسان کا عمل فنانہیں ہوتا اور تم اس طرف توجہ نہیں دیتی ہو۔خدا تعالے فرماتا ہے کہ ہر شخص کا پرندہ ہم نے اس کی گردن پر باندھ رکھا ہے۔اور وہ پرندہ کیا ہے؟ اس کا عمل۔اگر وہ نیک ہوگا تو اس کا پرندہ بھی نیک ہوگا۔اگر وہ بد ہوگا تو وہ بھی ہو۔پس عملی زندگی میں اصلاح کی کوشش کر و سینکڑوں ایسی ہوں گی جو دس سال سے آتی ہوں گی مگر انہوں نے ہر سال جلسہ پر آ کر کیا فائدہ اٹھایا؟ عمل دو قسم کے ہوتے ہیں (۱) انفرادی (۴) اجتماعی۔جب تک یہ دونوں قسم کے عمل مکمل نہ ہوں تمھاری زندگی سدھر نہیں سکتی۔نہ اللہ تعالے خوش ہوتا ہے۔انفرادی اعمال نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ ، چندے دینا اور بچ بولنا۔اس میں کوئی ضرورت نہیں کہ بیس پچیس اور عورتیں ہوں جو تمھارے ساتھ مل کر یہ کام کریں۔یہ انفرادی اعمال ہیں جو ایک آدمی سے تعلق رکھتے ہیں کسی جتھے کی ضرورت نہیں یہ کام ایسے ہیں کہ ان کے متعلق یہ نہیں کہ سکتیں کہ چونکہ ہمارے ساتھ اور عورتیں شامل نہ تھیں اس لئے میں نے نماز نہیں پڑھی۔یا اس لئے روزہ نہیں رکھا کہ اور روزہ رکھنے والے نہ تھے۔خدا تعالے قیامت کے دن اس آدمی کو نہیں چھوڑے گا جو کہے گا