اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 339
339 اتَّقُوْ رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم ان مصیبتوں کے وقت اپنے رب کو ڈھال بنا لیا کرو۔اموں نے تم سب کو ایک جان سے پیدا کیا۔ایک جان سے مراد مرد اور عورت کا مجموعہ ہے بعض لوگ اس کے یہ معنے کرتے ہیں کہ یہاں آدم اور کو امراد ہیں کیونکہ آدم کی پسلی سے خوا پیدا ہو گئی۔اگر آدم کی پسلی سے تو پیدا ہو گئی تھی تو عورت کو تکلیف دینے کی کیا ضرورت تھی۔ہمیشہ مرد کی پسلی سے بچہ پیدا ہو جاتا۔تو نفس واحدہ سے مراد یہ ہے کہ مرد اور عورت ایک ہی چیز ہیں۔اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں نے کہا لَنْ نَّصْبِرَ عَلَى طَعَامٍ وَاحِدٍ۔اے موسے ہم ایک کھانے پر کفایت نہیں کر سکتے۔حالانکہ وہ من اور سلوٹی دو کھانے کھاتے تھے لیکن چونکہ دونوں کو ملا کر کھاتے تھے اس لئے انہوں نے ایسا کہا۔ماں کو بچے سے محبت ہوتی ہے مگر وہ پہلی میں سے پیدا نہیں ہوتا۔اسی طرح ہر نر و مادہ میں محبت ہوتی ہے۔سارس ایک جانور ہے اُن میں اس قدر محبت ہوتی ہے کہ یا مادہ مر جائے تو دوسرا بھوکا رہ کر مر جاتا ہے۔تو محبت کا مادہ اللہ تعالیٰ نے فطرت میں رکھا ہے۔جس طرح نر اور مادہ میں اُس نے محبت رکھی ہے اسی طرح مرد اور عورت میں رکھی ہے۔پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ مرد اور عورت نفس واحدہ ہیں۔وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا۔اور اس کی جنس میں سے ہی جوڑا بنایا ہے۔مرد کی جنس عورت ہے اور عورت کی جنس مرد۔مِنْهَا سے مرد مِنْ نَفْسِهَا ہے۔عورت کا زوج مرد اور مرد کا زوج عورت ہے۔مرد عورت کی قسم سے اور عورت مرد کی قسم سے ہے۔اس آیت میں یہ بتایا کہ عورت کے زوج کا لفظ مرد کے لئے بولا جاتا ہے۔اور مرد کے زوج کا لفظ عورت کے لئے بولا جاتا ہے۔جسے کہتے ہیں جوتی کا جوڑا۔ایک پاؤں ہو تو کہتے ہیں اس کا ر ا جوڑا کہاں ہے وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيراً۔پھر ہر مرد اور عورت کی آگے نسل چلائی۔وَاتَّقُو اللَّهَ الَّذی تسَاءَلُونَ یہ والا ز کام۔اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو۔جس کے ذریعے تم سوال کرتے ہو۔اور تقویٰ اختیار کرو اُس خدا کا جس نے تمہارے اندر محبت پیدا کی۔اور تمہاری اولاد کا سلسلہ جاری کیا۔بے شک تم اپنے ماں باپ کا بھی خیال رکھو مگر خدا کو کبھی نہ کھولو۔کیونکہ ماں باپ نے تم کو عارضی زندگی دی لیکن خدا نے تم کو دائی زندگی دی۔اسی طرح بے شک رشتہ داروں کا بھی خیر : نو لیکن جس کا تعلق تمہارے ساتھ سب سے زیادہ ہے یعنی خدا اُس کا بھی خیال رکھو۔إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا - جس طرح ماں بچے کی نگران ہوتی ہے اسیطرح خدا