اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 337
337 فرماتا ہے۔یادرکھو! تم اُسی وقت تک مجھے پسندیدہ ہو جب تک تم ہماری باتیں مانو گی اگر تم ہماری باتیں نہ سُنو گی تو تمہارا خدا تمہاری کوئی پرواہ نہیں کرے گا اور اس کا وبال تمہارے سر پر پڑے گا۔تم اس دنیا میں بھی ذلیل ہوگی اور تمہاری اولا د بھی برکتوں سے محروم رہے گی۔کتنا خطر ناک وعید اور انداز ہے۔کاش تم سمجھو۔کاش تم اپنی اصلاح کرو۔کاش ! تم خدا کی باتوں کی طرف توجہ دو۔اور کاش ! خدا تمہارے دلوں کو پاک کر دے۔اگر تمہاری اولادیں دین کی خدمت کریں گی تو بھی اُن کی نیکیوں میں حصہ دار ہوگی۔اس دُنیا میں بھی اور اگلے جہاں میں بھی۔میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تم کو نیک عمل کرنے کی توفیق دے اور اپنی برکتیں تمہارے گھروں پر نازل فرمائے۔(از مصباح مارچ ۱۹۴۰ء) عورتیں مردوں سے کوئی علیحدہ چیز نہیں ہیں ! ۲۷ دسمبر ۱۹۴۰۔حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جلسہ سالانہ میں خواتین جماعت احمدیہ کے سامنے مندرجہ ذیل تقریر فرمائی:۔تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔عورتوں کے متعلق ایک مسئلہ ایسا ہے کہ اگر اُسے رات دن عورتوں کے کان میں ڈالا جائے اور صبح شام اُن کو اور مردوں کو اس کی اہمیت بتائی جائے تو بھی اس زمانہ کے لحاظ سے یہ کوشش تھوڑی ہوگی۔کیونکہ یہ مرض جس کی طرف میں اشارہ کر رہاں ہوں ہزاروں سال سے دُنیا میں چلا آتا ہے۔اور جو مرض ہزاروں سالوں سے چلا آئے اُس کا ازالہ ایک دفعہ کہنے سے نہیں ہو سکتا۔مردوں اور عورتوں دونوں میں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ عورتیں مردوں سے علیحدہ چیز ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بہت سی ذمہ داریاں جو ان پر عائد ہوتی ہیں اُن کی طرف یا تو وہ توجہ نہیں دیتیں یا اُن کو وہ اہمیت نہیں دیتیں جو دینی چاہیئے۔یہ ایک ایسا معاملہ ہے کہ اس کی اہمیت کو جتنا بھی ظاہر کیا جائے اتنا ہی اُن کے لئے فائدہ مند ہے۔میں نے دیکھا ہے یہ خیال اتنا وسیع ہو گیا ہے کہ مرد خیال کرتے ہیں کہ عورتیں کوئی الگ چیز ہیں اور عورتیں بھی اپنے آپ کو ان سے علیحدہ چیز خیال کرتی ہیں۔