اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 26
26 نہ تھے بلکہ خدا تھے اس لئے انہوں نے وفات نہیں پائی لیکن یہ کفر ہے کہ اُن کو خدا قرار دیا جائے اور اگر رسول تھے اور واقعہ میں رسول تھے تو وفات بھی پاچکے ہیں کیونکہ قرآن کریم صاف طور پر بتلا رہا ہے کہ آنحضرت میں ہے سے پہلے سارے رسول فوت ہو چکے ہیں۔قرآن کریم حضرت معینی کو فوت شدہ قرار دے رہا ہے اور جو فوت ہو جائے وہ دوبارہ دنیا میں واپس نہیں آسکتا کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کی سنت کے خلاف ہے۔پھر اللہ تعالیٰ کو کیا ضرورت ہے کہ ایک مرے ہوئے انسان کو دوبارہ زندہ کر کے دنیا میں لائے۔خدا تعالیٰ تو قادر مطلق ہے اُس کو یہ ضرورت نہیں ہے کہ دنیا کی اصلاح کے لئے کسی نئے انسان کو پیدا کرنے کی بجائے ایک مدتوں کے مردہ انسان کو بھیج دے۔ہم تو دیکھتے ہیں کہ دنیا میں کوئی مالدار اور دولتمند انسان اس طرح نہیں کرتا کہ ایک وقت کھانا بچ جائے اُسے دوسرے وقت کھانے کے لئے رکھ چھوڑے۔ہاں غریب لوگ ایسا کرتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کی نسبت یہ کہنا کہ اُس نے ضرورت کے لئے وہی حضرت عیسی رکھے ہوئے ہیں جو کئی سو سال ہوئے پیدا کئے گئے تھے اُسے کنگال اور مفلس خدا بنانا ہے اور اُس کے قادر ہونے سے انکار کرنا ہے حالانکہ خدا تعالیٰ ایک نہیں کئی عیسی پیدا کر سکتا ہے اور جب ضرورت ہو بھیج سکتا ہے۔پہلے نبی جب فوت ہوتے رہے تو اُن کے بعد اور نبی بھیجتا رہا یہ نہیں ہوا کہ انہی کو دوبارہ زندہ کر کے بھیجتا رہا ہے پھر کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ حضرت عیسی کو دوبارہ بھیجے۔مسلمانوں میں یہ ایک بہت بیہودہ عقیدہ پھیلا ہوا ہے حالانکہ حضرت عیسی کے آنے سے مُراد یہ تھی کہ اُن کی صفات کا ایک انسان آئے گا اور حضرت مرزا صاحب آئے ہیں جو حضرت عیسی کی طرح یہودیوں کی اصلاح پر مامور کئے گئے ہیں کیونکہ آنحضرت ﷺ نے فرما دیا ہوا ہے کہ مسلمان یہودی ہو جائیں گے۔اس زمانہ کا فتنہ آنحضرت اللہ نے فرمایا ہے کہ حضرت نوح سے لے کر آپ تک کے سب نبیوں نے اس فتنہ کی خبر دی ہے جو حضرت مسیح موعود کے وقت آئیگا اب دیکھ لو کہ اتنے بڑے فتنہ کے دور کرنے کے لئے کس قدر کوشش کی ضرورت ہے۔آجکل ہماری جماعت کے مردوں سے جس قدر ہو سکتا ہے کوشش کر رہے ہیں۔عورتیں دعائیں کریں لیکن ضرورت ہے کہ عورتیں بھی اُن کی مددکریں اور اسکام میں اُن کا ساتھ دیں دردِ دل سے دعائیں مانگا کریں کہ اسلام کی ترقی ہو ، خدا تعالیٰ حق کے قبول کرنے کے لئے لوگوں کے