اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 316 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 316

316 تربیت اولاد کے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو تحریک جدید کے تمام مطالبات پر عمل پیرا ہو جاؤ ۲۷۔دسمبر ۱۹۳۸ء کو جلسہ سالانہ کے موقع پر خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے خواتین جماعت احمدیہ کو مخاطب کر کے مندرجہ ذیل تقریر فرمائی:۔تشہد اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:۔ہمارے ملک میں ایک کہانی مشہور ہے بلکہ اس کے متعلق ایک ضرب المثل بنی ہوئی ہے کہ کو انس کی چال چلا اور اپنی بھی بھول گیا۔کہانی یوں بیان کرتے ہیں کہ کسی کوے نے ہنسوں کی چال جود دیکھی تو وہ اُسے پسند آئی۔اُس نے سمجھا کہ میری چال اچھی نہیں۔آخر اس نے کچھ ہنسوں کے پر اٹھائے اور اپنے پروں میں اُڑس لئے اور لگا اُن کی سی چال چلنے۔مگر وہ اُن کی چال کب چل سکتا تھا۔ہنسوں نے اُسے اجنبی پرندہ سمجھ کر اُسے مارنا شروع کیا یہ وہاں سے نکل کر اپنے گووں میں آشامل ہوا مگر چونکہ یہ کچھ مدت ہنسوں کی چال چل کر اپنی بھول گیا تھا اس لئے کووں نے بھی اُسے چونچیں مار مار کر اپنے میں سے نکال باہر کیا۔اب پیدا کیلارہ گیا، نہ ادھر کا رہانہ ادھر کا رہا، نہ ہنسوں نے اُسے ساتھ ملایا نہ کو وں نے اُسے شامل کیا اس مثال یا اس کہانی کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی نے جس چیز کو جس کام کے لئے پیدا کیا وہی اس کام کو بخوبی سمجھ سکتی اور احسن طور پر سرانجام دے سکتی ہے۔اُردو میں ایک اور ضرب المثل ہے کہ " جس کا کام اُسی کو ساجھے جب ایک کا کام دوسرا کرنے لگے تولا ز ما خرابی پیدا ہوگی اور وہ ایک مجو بہ بن جائے گی اور کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے۔ایک مرد دوسری عورت۔ان میں اللہ تعالیٰ نے بعض اشتراک رکھے ہیں اور بعض اختلاف بھی رکھے ہیں۔مثلا کھانے پینے میں مرد اور عورت ایک ہی قسم کے ہیں یہ بھی نہیں ہوا کہ مرد کھاتے ہیں اور عورتیں نہ کھاتی ہوں گو غذاؤں میں تھوڑ اسا فرق ہوتا ہے مثلا بعض حصے عورتوں کے اور تم کی غذا چاہتے ہیں اور مردوں کے اور قسم کی۔مثلا عورتوں کے جسم پر چربی زیادہ آجاتی ہے