اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 307

307 صلى الله پاس نوکر ہو گئے اور ان کو ایک قافلہ کے ساتھ باہر بھیجا گیا۔جب واپس آئے تو بہت نفع ہوا انہوں نے جب آپ کی نسبت دریافت کیا تو غلاموں نے کہا کہ پہلے لوگ بہت سے نفعے خود رکھ لیتے تھے لیکن ہم نے ان کو بہت امین پایا ہے۔وہ آپ کی تعریف سنکر اس قدر متاثر ہوئیں کہ اپنے چا کو ملا کر پیغام شادی بھیجا۔رسول کریم نے کہا کہ میرے پچا سے پوچھ لو۔اگر وہ رضامند ہوں تو پھر میں نکاح کرلوں گا۔پھر چچا کی رضا سے اپنا نکاح حضرت خدیجہ سے کر لیا۔آپ کی امانت اور دیانت کا یہ حال تھا کہ تھوڑے ہی عرصہ میں حضرت خدیجہ نے آپ کے اس جو ہر کو پہچان لیا اور حضرت خدیجہ نے اپنا تمام مال وزر آپ کے سپرد کر دیا۔جب حضرت خدیجہ نے کہا کہ یہ میرا امال تمام آپ کا ہے تو آپ نے فرمایا کہ خدیجہ بھی کہتی ہو۔پھر جس طرح میرا اختیار ہے میں کروں ؟ پس آپ نے کہا سب سے پہلے یہ جو غلام ہیں ان کو آزاد کر دو۔حضرت خدیجہ کے دل پر آپ کی نیکی کا اس قدر اثر تھا کہ انہوں نے کہا بے شک آپ کو اختیار ہے۔ان غلاموں میں ایک غلام زید بھی تھے یہ ایک بہت بڑے رئیس کے لڑکے تھے۔بچپن میں کوئی اُن کو پکڑ کر بیچ گیا تھا۔اُن کا باپ تمام جگہ اُن کی تلاش کرتا کرتا بہت سا روپیہ لے کر مکہ پہنچا اور کہا کہ جس قدر آپ مال لینا چاہتے ہیں لے لیں اور لڑکا ہمارے ساتھ کر دیں۔اس کی ماں دس سال سے روتی روتی اندھی ہوگئی ہے اور میں دس سال سے اس کو ڈھونڈتا پھرتا ہوں۔رسول کریم ﷺ نے خانہ کعبہ میں جا کر کہا۔لوگو گواہ رہو یہ آزاد ہے اور کہا یہ تیرا باپ ہے اس کے ساتھ چلا جا۔دس سال سے اُس نے اپنا کاروبار چھوڑ کر تیری خاطر اپنی عمر کا ایک حصہ یوں برباد کیا ہے۔زیڈ نے کہا بے شک یہ میرا باپ ہے اور ایک مدت کے بعد ملا ہے اور اس نے میری خاطر بہت تکلیف اُٹھائی ہے اور کون ہے جس کو اپنے ماں باپ سے محبت نہیں ہوتی بے شک اس نے دس سال میری محبت کے پیچھے برباد کئے ہیں۔لیکن مجھ کو تو آپ کے سوا کوئی ماں باپ نظر نہیں آتا۔خیال کرو کہ آپکو کس قدر انس تھا۔باپ روتا ہوا چلا جاتا ہے لیکن وہ آپکی جدائی کو پسند نہیں کرتا۔پس یہ تھا آپ کی دیانت ، امانت ،صداقت ، راستبازی کا حال۔آپ نے علانیہ فرمایا کہ اے لوگو ! میں نے تم میں عمر گزاری ہے بتلاؤ میں نے کبھی جھوٹ بولا ہے تو کیا میں خدا پر ہی جھوٹ بولوں گا۔یہی وجہ تھی کہ حضرت ابو بکر سنکر فورا ایمان لے آئے۔کہتے ہیں کہ جب آپ نے نبوت کا دعویٰ کیا تو حضرت ابو بکر صدیق باہر گئے ہوئے تھے اور وہ واپس آتے ہوئے راستہ میں اپنے ایک دوست کے مکان پر ٹھہرے اور آپ اپنی چادر ہٹا کر لیٹنے ہی لگے تھے کہ اس گھر کی لونڈی