اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 295
295 گناہوں سے پاک اور اعلیٰ اخلاق والی پیدا ہو سکتی ہے۔چونکہ یہ نہایت ہی ضروری اور اہم امر ہے اور خواتین جماعت احمدیہ کے ہمیشہ پیش نظر رہنا چاہیئے اس لئے اس بارہ میں حضور کے بعض ارشادات پیش کئے جاتے ہیں :۔حضور نے فرمایا:۔اسلام نے دوسرے مذاہب کے برخلاف صرف اسی طرف توجہ نہیں دلائی کہ گناہ کا قلع قمع کس طرح کیا جائے بلکہ اس طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ سب سے پہلے یہ کوشش کرو کہ گناہ پیدا ہی نہ ہو۔مگر میں افسوس کے ساتھ کہتا ہوں کہ باوجود اس کے کہ قرآن کریم نے ادھر توجہ دلائی ہے اور بعض اسلامی بزرگوں نے بھی اس پر زور دیا ہے بحیثیت قوم مسلمانوں نے ادھر پوری توجہ نہیں کی اور اس امر کو نظر انداز کر دیا ہے کہ گناہ انسان کے بلوغ سے پہلے پیدا ہوتا ہے۔جب لوگ کہتے ہیں کہ فلاں اب گناہ کرنے لگا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ گناہ کا پیج جو اس کے اندر تھاوہ درخت بن کر ظاہر ہو رہا ہے ورنہ کیسے ہوسکتا ہے کہ بیج نہ ہو اور درخت پیدا ہو جائے ؟ ہر گز نہیں۔اگر گناہ کی قابلیت پہلے ہی نہ تھی تو پھر وہ بالغ ہونے پر کہاں سے آگئی۔پس اصل بات یہ ہے کہ گناہ بچپن سے پیدا ہوتا ہے اور ہر ایک بدی بلوغ سے پہلے انسان کے دل میں جاگزیں ہو جاتی ہے بلکہ بعض دفعہ تو پیدا ہونے سے بھی پہلے بعض بدیوں کی ابتداء شروع ہو جاتی ہے۔جب ایک شخص بالغ ہو جاتا ہے اور علماء کہتے ہیں اسے بدیوں سے بچاؤ تو اس وقت وہ شخص پورے طور پر شیطان کے قبضہ میں جاچکا ہوتا ہے۔میرے اس کہنے کا یہ مطلب نہیں کہ اس میں سب بدیاں پائی جاتی ہیں بلکہ یہ ہے کہ اُس میں گناہ کی طاقت اور ان کا شکار ہو جانے کا میلان ہو چکا ہوتا ہے۔میں پہلے بتا چکا ہوں کہ اخلاق میلان کی چند خاصیتوں سے پیدا ہوتے ہیں۔وہی میلان اگر بچپن میں خراب ہو جا ئیں تو کو بچہ بالکل بے گناہ آئے مگر اس کے اندر گناہ کے ارتکاب کا پورا سامان موجود ہو گا۔اب ذرا سوچو تو سہی کہ گناہ کہاں سے پیدا ہوتا ہے۔کیا گناہ ورثہ سے نہیں پیدا ہوتے۔وہ قو میں جو کوئی خاص کام کرنے والی ہوتی ہیں اسی قسم کا میلان اُن کی اولاد میں پایا جاتا ہے۔ایک ایسی قوم جس میں نسلاً بعد نسلاً بہادری کی روح نہ ہو اور اسے بہادر بنانے کی کوشش کی جائے وہ لڑائی کے وقت بُز دلی دکھائے گی یا ویسی بہادری نہیں اس سے ظاہر ہوئی جیسی کہ ایک نسلی بہادر قوم سے ظاہر ہوگی۔تو گو اس قسم کی باتوں سے اصلاح ہو