اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 290

290 پیش آتے رہے ہیں۔پھر لاہور اور بعض جماعتوں کے احمدی تبلیغ کے لئے گئے تو کئی سو آدمی اُن کے پیچھے پڑے۔مٹتے اُن کے پیچھے ڈالے گئے۔بعض عورتیں جو احمد ی ہو گئیں یا غلطی سے غیر احمدیوں کے ہاں بیاہی گئیں اُن کے میرے پاس اکثر خطوط آتے ہیں۔اُن کو گالیاں دی جاتی ہیں اور طرح طرح کی تکلیفیں پہنچاتے ہیں۔اکثر غیر احمدی جو دفتروں میں افسر ہیں وہ احمدیوں کو تکلیفیں دیتے ہیں اور اُن کو چھٹیاں نہیں دیتے کہ وہ جلسہ سالانہ میں شمولیت کر سکیں۔یا برخاست کرا دیتے ہیں۔پھر تعلیم یافتہ جو دفتروں میں ملازمت کے لئے جاتے ہیں اُن کی ملازمت میں طرح طرح کی روک ڈالتے ہیں محض اس لئے کہ ملازمت چاہنے والے احمدی ہیں۔پھر کئی احمدی ایسے ہیں جن کی بیوی بچوں نے اُن کا بائیکاٹ کر دیا اور سالہا سال کے بعد بیوی احمدی ہوئی اور وہ کئی سال تکلیفیں اٹھاتے رہے۔پھر گورنمنٹ کے پاس جا کر اطلاع دی جاتی ہے کہ یہ گورنمنٹ کے بر خلاف ہیں۔ادھر ہمیں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ گورنمنٹ کے جاسوس ہیں اور گورنمنٹ کو یہ کہہ کر ہمارے برخلاف کرتے ہیں اور اُدھر پبلک کو اُکساتے ہیں کہ ان پر حملہ کر دو، ان کے اسباب توڑ دو۔مسجدوں میں کہا جاتا ہے کہ احمدی سور ہیں ان کو مسجدوں میں نہ آنے دو۔نکاحوں کے فسخ کرنے کی تجویز ہیں پاس کرتے ہیں۔غرض اس وقت ہماری حالت ایسی ہی ہے جیسے کہ رسول کریم اللہ کے زمانہ میں مسلمانوں کی تھی۔باوجود زمین وسیع ہونے کے ہم پر تنگ ہے۔ابھی حال میں قادیان میں جلسے ہوئے اور ہمیں گالیاں دی گئیں اور گورنمنٹ کے بعض افسروں نے بھی اُن کا ساتھ دیا۔ادھر گورنمنٹ کو بر خلاف کیا جاتا ہے، ادھر لوگوں کو بر کا یا جارہا ہے۔بہر حال ہمارے دشمن یا درکھیں وہ ناکام رہیں گے۔بے شک بیوی بچے اور خاوند کو چھوڑ دے اور خاوند بچوں اور بیوی کو چھوڑ دے لیکن احمدیت نہیں چھوڑی جاسکتی۔ابھی حال ہی کا واقعہ ہے ایک بچہ آیا اُس کے ماں باپ نے اُس پر بڑی سختیاں کیں ، اُس کے کپڑے تک اُتار لئے ، ہماری جماعت اس کو کپڑے پہنا کر لائی ہے۔سو جو آنے والے ہیں آئیں گے خواہ کچھ بھی ہو۔جسے خدا نے لانا تھا وہ کپڑے تک اُتر وا آیا اور آ گیا۔جسے خدا لاتا ہے کون ہے جو اُس کو روک سکتا ہے؟ ایمان کو کوئی تلوار سے کاٹ کر پتھروں سے مار کر ہٹا نہیں سکتا۔کابل کے حالات، صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کے حالات اور نعمت اللہ خان شہید کے حالات سب جانتے ہیں کہ اُن کو بازاروں میں پھر اتے تھے۔بعض کو نکیل ڈال کر کہا کہ تم احمدیت چھوڑ دو لیکن وہ احمدیت سے نہ پھرے۔صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کو جب میدان میں لایا گیا تو