اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 277 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 277

277 ہماری عورتیں اگر اپنا دین سیکھیں، قرآن مجید کو پڑھیں تو ان کو معلوم ہوگا کہ غیر مذہب کے اعتراضات کا کیا جواب ہو سکتا ہے۔قرآن شریف ایک جامع کتاب ہے اس میں سے سب کچھ معلوم ہو سکتا ہے بشرطیکہ تدبر اور غور سے پڑھا جائے۔دیکھو میں چونکہ صحت کا کمزور تھا اور شروع سے ہی مدرسہ میں میر الحاظ کیا جاتا تھا اس لئے پرائمری سے انفرنس تک میں نے کوئی امتحان پاس نہیں کیا مگر میں نے صرف قرآن مجید پڑھا۔فلسفہ منطق وغیرہ میں نے نہیں پڑھا مگر اب تک خدا کے فضل سے اور صرف قرآن مجید پڑھنے کے باعث ہر ایک بڑے انسان سے، غیر مذاہب کے پیشواؤں سے، بڑے سے بڑے لیکچراروں اور مدبروں سے گفتگو کرنے پر کبھی بھی نہیں جھجکا اور نہ کسی بڑے بڑے لیکچرار، پرنسپل ، بشپ تک نے میرے سامنے کبھی گفتگو کی جرأت کی۔میں یورپ میں گیا تو بھی انگریزی میں برابر مضمون بیان کرتا اور بڑے بڑے فلسفیوں کی مجالس میں برابرگفتگو کرتا اور دل میں کوئی رکاوٹ نہ ہوئی مگر یہ میرے ذہن کی کوئی خوبی نہیں بلکہ میرے پاس قرآن کی تلوار ہے۔پس اگر تم بھی قرآن، حدیث اور احمدیت کی کتابیں پڑھوگی تو پتہ لگے گا کہ اسلام کیسا عمدہ مذہب ہے۔کوئی عیسائی جرات نہیں کر سکتا کہ احمدیوں کے سامنے آئے۔تمہارے پاس قرآن کا ہتھیار ہونا چاہیئے۔دیکھو کوئی ڈاکٹر کامیاب نہیں ہو سکتا محض اپنی دواؤں یا عدہ چمکدار اوزاروں سے بلکہ خود اس کی دماغی قابلیت ہونی چاہیئے۔اگر قابلیت نہ ہو تو اوزار یا دوا میں کچھ بھی مفید نہیں ہو سکتیں۔چند اخلاق کے ساتھ قابلیت پیدا ہوتی ہے۔ایک مشکر ہے۔شکر گزاری کے ساتھ بہت سے نیک اخلاق پیدا ہوتے ہیں اور شکر گزاری کے ساتھ ترقی اور بہتری کے سامان پیدا ہوتے ہیں شکر یہ ادا کرنے کا فعل قوم کے اندر محبت اور اتحاد پیدا کرنے کا موجب ہوتا ہے۔جب کسی نیک تحریک پر شکر یہ ادا کر کے اپنا فرض ادا کرتے ہیں تو بہت سے نیک اخلاق پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔حضرت جنید (یا شیلی فرمایا ) رحمتہ اللہ علیہ ایک بزرگ گزرے ہیں وہ پہلے کسی صوبہ کے گورنر تھے ایسے نیک اور صالح بزرگ تھے کہ اولیاء کرام میں سے ہوئے۔چنانچہ ان کے نام پر لوگ بچوں کے نام رکھتے ہیں۔(چنانچہ ہمارے قاضی اکمل صاحب کے بچوں کے نام بھی جنید و شبلی ہیں ) اُن کا ذکر ہے کہ بادشاہ نے اُن کو زمانہ گورنری میں انکی حسن خدمات کے صلہ میں بہت اعلیٰ درجہ کا خلعت بخشا۔جب وہ خلعت پہن کر دربار میں بادشاہ کے حضور بیٹھے تھے چھینک آ گئی تو اپنی ناک اسی خلعت فاخرہ کے دامن سے پونچھ لی۔بادشاہ نے دیکھ لیا اور سمجھا کہ ہمارے خلعت کی بے حرمتی