اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 276 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 276

276 انداز سے چلا کر اپنا بازو کاٹ لیا اس پر بادشاہ نے ڈانٹا اور وہ مور دعتاب ہوا۔تو ٹھیک اسی طرح مسلمان عورتوں کو حقوق کا استعمال کرنا نہیں آتا۔دیکھو اسلام میں بچے کو ماں کا دودھ چھڑانے کے متعلق بھی حکم ہے کہ آپس کے مشورے سے چھڑاؤ مہر کے متعلق فرمایا تمہاری ملکیت ہے چاہے جس طرح استعمال کرو۔تو لوگوں نے اس پر غلطی یہ کی کہ مہر دس لاکھ یا اس سے بھی زیادہ باندھنے شروع کئے۔کیا فائدہ اگر کسی کی آمدنی ایک پیسہ کی بھی نہ ہو اور مہر باندھ لے لاکھ دولاکھ تا کہ وہ ادا نہ ہو سکے۔یہ کوئی فخر یا اظہار دولتمندی کا طریقہ نہیں۔ایسی ایسی مشکلات لوگوں نے صحیح طور سے حقوق کا استعمال نہ سیکھنے کی وجہ سے خود بخود اپنے اوپر ڈال لی ہیں۔الفرض مسلمان عورت کو خدا نے ہر طرح کے حقوق دئے ہیں چاہئے کہ ان کا صحیح استعمال کرنا سیکھے۔اگر انسان کے پاس ایک بہت عمدہ گھوڑا ہے مگر وہ اُس پر چڑھنا نہیں جانتا تو گھوڑا بے فائدہ ہے۔صحیح استعمال کے بعد ارادہ کی ضرورت ہے۔اگر انسان کو علم بھی ہو ، قابلیت بھی ہو، ارادہ نہ ہو تو وہ قابلیت بھی کچھ مفید نہیں۔بعض لوگ عالم اور قابل ہوتے ہیں مگر ارادہ نہیں ہوتا تو وہ کچھ بھی کام نہیں کر سکتے۔پھر نیٹ ہفتہ اور عمل ہو۔جب کام کا ارادہ کرے اُس پر عمل کرے۔بعض لوگ کسی کام کا علم رکھتے ہیں، قابلیت بھی ہوتی ہے، ارادہ بھی کرتے ہیں مگر اس پر عمل نہیں کرتے تو اُن کی مثال اُس بڑھیا کی سی ہوتی ہے جس نے اپنے گھر کا دروازہ لگوا کر بھی اُسے کتوں کے لئے کھلا چھوڑ دیا تھا۔ہمارے ملک میں عورتوں نے غلطی سے سمجھ لیا ہے کہ ہمارے حقوق پر مردوں نے قبضہ مخالفانہ کر رکھا ہے۔سو مسلمان عورتوں کو یاد رکھنا چاہیئے کہ کہ اگر وہ اپنے اسلام کے دے ہوئے حقوق کا استعمال کرنا نہ سیکھیں گی تو شکوہ بے فائدہ ہوگا۔اسلام میں دئے ہوئے حقوق اگر دریافت کرنے ہوں تو قرآن پڑھو، حدیث کا مطالعہ کرو، پھر اس کی صحیح تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب سے ملے گی۔دیکھو حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے ایک دفعہ اپنی بیوی سے کوئی سخت بات کی تو الہام ہوا کہ مسلمانوں کے لیڈر سے کہہ دو کہ یہ بات اچھی نہیں۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طرز عمل اور عمدہ معاشرت سے سبق سیکھو کہ آپ نے اصل اسلام کے طریق پر عمل کر کے دکھا دیا کہ عورت کی کتنی قدر اسلام نے رکھی ہے۔بے شک لوگ دعوی کرتے ہیں اور بڑے بڑے لیڈران ملک حامی حقوق نسواں بھی ہیں اور سرسید احمد خان وغیرہ بہت لائق لیڈر تھے مگر اُن کی جماعت خود اسلام پر اعتراض کرتی ہے۔دوسرے مذہب عیسائی تو خیر ہیں ہی دشمن اسلام ان کا تو کام ہی یہی ہے مگر