اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 21

21 کرونگا۔اس پر انہوں نے قرآن کریم سُنایا جسے سنگر حضرت عمر رو پڑے اور دوڑے دوڑے رسول کریم والے کے پاس گئے۔تلوار ہاتھ میں ہی تھی۔رسول کریم ﷺ نے انہیں دیکھ کر کہا عمر یہ بات کب تک رہے گی ؟ یہ شکر وہ رو پڑے اور کہا میں نکلا تو آپ کے مارنے کے لئے تھا لیکن خود شکار ہو گیا ہوں۔تو پہلے یہ حالت تھی جس سے انہوں نے ترقی کی۔پھر یہی صحابی تھے جو پہلے شراب پیا کرتے تھے، آپس میں لڑا کرتے تھے اور کئی قسم کی کمزوریاں اُن میں پائی جاتی تھیں لیکن جب انہوں نے آنحضرت مہ کو قبول کیا اور دین کے لئے ہمت اور کوشش سے کام لیا تو نہ صرف خود ہی اعلی درجے پر پہنچ گئے بلکہ دوسروں کو بھی اعلے مقام پر پہنچانے کا باعث ہو گئے۔وہ پیدا ہی صحابی نہیں ہوئے تھے بلکہ اُسی طرح کے تھے جس طرح کے اور تھے مگر انہوں نے عمل کیا اور ہمت دکھائی تو صحابی ہو گئے۔آج بھی اگر ہم ایسا ہی کریں تو صحابی بن سکتے ہیں۔یہ شیطان کا جال اور پھندا ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ کوئی انسان دین کی راہ میں کوشش کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اُس کے آگے ڈال دیتا ہے کہ تم کیا کر سکتے ہو۔اور اس کی مثال مکڑی کے جالے کی طرح ہوتی ہے کہ جب لکھی زور کر کے اُسے توڑ دیتی ہے تو وہ اور تن دیتی ہے۔شیطان بھی اسی طرح بندوں کے اردگرد پھرتا رہتا ہے اور جب دیکھتا ہے کہ میرے بند ٹوٹنے لگے ہیں تو اور باندھ دیتا ہے۔ان بندوں میں سے ایک یہ بھی بند ہے کہ جب کوئی عورت یا مرد نیک کام کرنا چاہتے ہیں تو وہ خیال پیدا کر دیتا ہے کہ کیا ہم فلاں بن جائیں گے۔ایسا تو نہیں ہو سکتا اس لئے کرنا ہی نہیں چاہئے حالانکہ فلاں بھی کوشش کر کے ایسا بن گیا تھا پھر جب یہ کوشش کرے گا تو کیوں نہ ویسا ہی بن جائے گا۔صرف نبی کی بیوی ہونا فضیلت کی وجہ نہیں یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ حضرت عائشہ و غیر بانہی کی بیویاں تھیں اس لئے انہوں نے دین کی خدمت کی ہم کیا کر سکتی ہیں۔اگر انہوں نے نبی کی بیویاں ہونے کی وجہ سے دین کی خدمت کی تو کیا حضرت نوع کی بیوی نبی کی بیوی نہ تھی۔یا حضرت لوط کی بیوی نبی کی بیوی نہ تھی ؟ لیکن انہوں نے کیا کیا۔نبی کے ماننے سے ہی انکار کر دیا اور تباہ و برباد ہوگئیں۔اگر صرف نبی کی بیوی ہونا کوئی چیز ہوتا تو وہ کیوں نیک نہ ہو تیں اور خدا سے تعلق نہ پیدا کرتیں اور دین کی خدمت کر کے نہ دکھاتیں لیکن بات یہ ہے کہ انہوں نے خدا تعالی کے احکام پر عمل نہ کیا اس لئے تباہ اور ہلاک ہو گئیں اور ہمارے رسول کریم ﷺ کی بیویوں نے عمل کیا اس لئے انہیں اعلیٰ درجہ حاصل ہو گیا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذِيْنَ الله