اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 259

259 گے۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ لڑکیوں کی ایف۔اے کلاس کے لئے مضمون جغرافیہ مقرر کیا گیا ہے۔میں نے سنا ہے عام طور طالب علم یہ مضمون نہیں لیتے۔شاید اس لئے کہ اسے مفید نہیں سمجھا جاتا۔اس لئے کہ اس میں امتحان سخت ہوتا ہے اور لڑکے کم پاس ہوتے ہیں۔دراصل یہ ایسا علم ہے جس کی زنجیر نہیں ہوتی اور اسی وجہ سے یہ مشکل سے یاد ہوتا ہے۔جن علوم میں زنجیر ہوتی ہے وہ جلد یاد ہوتے ہیں کیونکہ ایک بات سے دوسری بات یاد آ جاتی ہے۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ فلاسفی میں امتحان دینے والے زیادہ نمبر حاصل کرتے ہیں کیونکہ اس میں زنجیر چلتی ہے۔میرے خیال میں یہ زیادہ بہتر ہوگا کہ اس مضمون کے لئے آدمی تیار کر لیا جائے۔ہمارے قاضی محمد اسلم صاحب پروفیسر اس میں ماہر ہیں۔سکول میں آپ جو چھٹیاں ہونے والی ہیں اُن میں اُن سے یا کسی اور سے ضروری ضروری باتیں پڑھ لی جائیں اور یہ مضمون لڑکیوں کے لئے رکھا جائے اس میں کامیابی کی زیادہ توقع ہوسکتی ہے چونکہ یہ ہماری پہلی کوشش ہے اس لئے ایسی راہ اختیار کرنی چاہیئے جس سے کامیابی کی زیادہ تو قع ہو۔فلاسفی تربیت اولاد میں بھی بہت امداد دیتی ہے اس لئے یہی پڑھانی چاہئے۔میں امید کرتا ہوں منتظمین اس کے لئے کوشش کریں گے۔اس کے بعد میں دعا کرتا ہوں جس میں سب احباب شامل ہوں اللہ تعالے ہمیں اپنے مقاصد میں کامیاب کرے۔ہمارے اسباب میں جو کمزوری ہے اُسے دور کر کے اعلیٰ درجہ کا نتیجہ پیدا کرے اور ایسے فوائد عطا کرے کہ جن سے نہ صرف عورتوں کی ذہنی ترقی ہو بلکہ آئندہ اولاد کی تربیت کے لئے بہتر سے بہتر سامان پیدا ہوں۔(الفضل ۷۔جولائی ۱۹۳۱ ص ۶۔۷) عورتوں کے اندر تجرأت و بہادری پیدا کی جائے حضرت خلف المسیح الثانی کے خطبہ جمعہ کا اقتباس رسول اللہ اللہ کا عملی نمونہ رسول کریم ﷺہ امن کے زمانہ میں بھی صحابہ کرام کے دوستانہ مقابلے کرایا کرتے تھے جن میں تیر اندازی اور دوسرے فنون حرب اور قوت و طاقت کے مظاہرے ہوتے تھے اور حدیث میں آتا ہے اس قسم کے کھیل آپ نے مسجد میں بھی کرائے اور حضرت عائشہ سے فرمایا اگر دیکھنا چا ہو تو میرے پیچھے کھڑی ہو