اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 255

255 کہیں گے کہ یہ طریق تمھارے لئے مفید نہیں بلکہ نقصان رساں ہوگا تو سابقہ اثرات کے ماتحت وہ ہماری بات نہیں سنیں گی اور کہہ دیں گی تم ظالم مرد ہو تم نے عورتوں کے حقوق غصب کر رکھے ہیں لیکن اگر عورتیں جا کر انہیں کہ دیں کہ ہم علی وجہ البصیرت اور تجربہ کی بناء پر کہتی ہیں کہ اسلام کی تعلیم اسلئے اور فائدہ بخش ہے تو اس کا اُن پر اثر ہوگا۔عورتوں کے متعلق جو رو چل رہی ہے اس کا اگر مرد مقابلہ کریں تو اس کامیابی سے نہیں کر سکیں گے جس طرح صرف عور تیں کر سکتی ہیں۔اگر عورتیں کہیں ہم اسلامی احکام کی پابندی کرتی ہوئی تمام حقوق سے فائدہ اٹھارہی ہیں تو ان کو خیال ہوگا کہ اگر یہ فائدہ اٹھا رہی ہیں تو ہم کیوں نہیں اٹھا سکتیں۔اسی وجہ سے میں نے مجلس مشاورت میں عورتوں کے حق رائے دہندگی کے متعلق سوال اٹھایا تھا۔میں نے ۱۹۲۴ء میں ولایت سے ایک چٹھی لکھی تھی جس میں بتایا تھا کہ اب ہندوستان میں پردہ کے خلاف رو چلے گی۔میرے اُس وقت کے مضامین الفضل میں چھپے تھے ان میں یہ چٹھی بھی تھی۔آب گزشتہ دو سال سے پردہ کے خلاف جو تحریک شروع ہوگئی ہے میں نے کئی سال قبل اس کے متعلق خبر دی تھی اور مجلس شوری میں اسی وجہ سے عورتوں کے حقوق رائے دہندگی کا سوال اٹھایا تھا کہ جس حد تک شریعت عورتوں کو حق دیتی ہے ہمارا فرض ہے کہ دیں تا انہیں اسلامی تعلیم سے ہمدردی پیدا ہو اور جب تک اُن کے اندر یہ جذبہ پیدا نہ ہو وہ عورتوں کو اسلامی احکام پر چلنے کی دعوت نہیں دے سکتیں اور عورتوں میں تبلیغ نہیں کر سکتیں۔تم میں سے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا که مدرسه احمد یہ یا جامعہ احمد یہ اڑا دیا جائے کیونکہ سب جانتے ہیں کہ جب تک مبلغ نہ ہو تبلیغ نہیں ہوسکتی۔یہی وجہ ہے کہ مجلس شوری پر زور دیا جاتا ہے کہ مبلغین کی تعداد زیادہ کی جائے۔پھر یہ کس طرح خیال کیا جاسکتا ہے کہ عورتوں میں اسلامی احکام کے خلاف جور و چل رہی ہے جب تک عور تیں تبلیغ کا کام نہ کریں اُسے روکا جاسکتا ہے۔لیکن جو عورت خود اپنے کو مظلومہ سمجھے وہ دوسری کو کیا تبلیغ کر سکے گی۔پس دونوں چیزیں ضروری ہیں۔عورتوں کو تعلیم بھی دی جائے اور ان کے حقوق بھی۔جو حقوق اسلام نے انہیں دیئے ہیں ہمیں چاہیئے کہ خودہی انہیں دیدیں تا ان کے اندر جوش پیدا ہو اور وہ اسلام کی جنگ اپنی جنگ سمجھ کر لڑیں۔عورتوں کے جلسوں میں مرد تقریریں نہیں کر سکتے عورتیں ہی کر سکتی ہیں اور عورتوں کے جلسوں میں جو کچھ بیان کیا جاتا ہے اس کے نوٹ بھی عورتیں ہی لے سکتی ہیں اس لئے عورتوں کو ہی اس کام کے لئے تیار کرنا چاہیئے اور انہیں جو حقوق اسلام نے دیئے ہیں دے دینے چاہئیں۔