اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 227 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 227

227 حضرت جعفر کی شہادت کا واقعہ ہے۔جب اُن کی اطلاع گھر پر آئی تو عور تمیں رونے پیٹنے اور نوحہ کرنے لگیں جیسا کہ عرب کا رواج تھا۔اسلام چونکہ نیا نیا تھا اِس لئے اسلامی عادات ابھی پوری طرح لوگوں میں پیدانہ ہوسکی تھیں اور جاہلیت کے زمانے کے اثرات باقی تھے اسی کی پیروی ان عورتوں نے کی۔آنحضرت ملا لیا کہ جب کسی نے آکر اس کی اطلاع دی تو آپ نے فرمایا کہ انہیں منع کرو۔منع کرنے سے بھی وہ باز نہ آئیں۔پھر کسی نے شکایت کی۔آپ نے فرمایا احثوا التراب في وجوههن یعنی ان کے منہ پر مٹی ڈالو۔وہ لوگ جنہوں نے آپ کے اس ارشاد کو سنافی الواقع مٹی ڈالنے کے لئے دوڑے۔حضرت عائشہ کو جب اس واقعہ کا علم ہو اتو بہت ناراض ہوئیں اور فرمایا کہ تم رسول کریم ﷺ کو ایسا بد اخلاق سمجھتے ہو کہ اس مصیبت کے وقت بھی تکلیف پہنچانے کا حکم دیں۔آپ کا تو یہ مطلب تھا کہ انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دو۔قال اللہ وقال الرسول کا صحیح فہم اسی خاتون کو تھا اب دیکھو جس بات کو مردوں نے نہ سمجھا اُسے ایک عورت یعنی حضرت عائشہ نے سمجھا اور یہی دنیا میں ایک عورت ہے جس نے قرآن کو اور خدا تعالے کے رسول کے کلام کو صحیح معنوں میں سمجھا۔اس کا ایک ثبوت افك کے واقعہ سے بھی ملتا ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے آپ سے فرمایا کہ عائشہ بچی سچی بات بتا دو کہ کیا معاملہ ہے تو انہوں نے جواب دیا یہ میرا کام نہیں خدا تعالے خود جواب دے گا۔چنانچہ قرآن کی بعد کی وحی سے یہی ہوتا ہے۔اُن کا یہ خیال درست تھا کیونکہ قرآن نے یہی کہا ہے کہ الزام دینے والا گواہ لائے نہ کہ جس پر الزام ہو وہ اپنی بریت کے لئے قسمیں کھاتا پھرے۔حضرت عائشہ نے قرآن کو قرآن کر کے پڑھا اس لئے مردوں سے زیادہ معرفت حاصل کی۔اگر آپ بھی اسی طرح اس پر غور کرنے اور سمجھنے کی کوشش کریں گی تو ایسا ہی فائدہ حاصل کریں گی اور کسی علم کے حاصل کرنے میں کسی کی محتاج نہ ہوں گی۔قرآن شریف ہر ایک زمانے کے علوم اپنے اندر رکھتا ہے اگر کوئی اس پر غور کرے تو دنیا کو حیران کر دینے والے علوم کا دروازہ اہل دنیا پر خدا کی تائید سے کھول سکتا ہے۔قرآن مجید علوم کا خزانہ ہے قرآن کے متعلق ایک موٹی مثال کو لو کہ کس طرح تیرہ سو سال پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے