اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 221

221 عورتیں نہیں ہیں جن کی اولا د ہو یا جوان اولاد ہو الا ماشاء اللہ لیکن بوجہ ا سکے کہ یہی عورتوں کی قائمقام ہیں اس لئے میں فرض کی طرف توجہ دلاتا ہوں جو اِس زمانہ میں عورتوں پر عائد ہوتا ہے۔اولاد کو بہادر اور مضبوط بناؤ ہماری جماعت اس موقع پر ہا امن جماعت رہی ہے ، اب بھی با امن ہے اور با امن رہے گی مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ ہم کسی جبر سے اپنے حقوق چھوڑ دیں اور اُن کی حفاظت نہ کریں۔دنیا میں سب سے بڑھ کر با ان رسول کریم اے تھے مگر آپ کی آخری عمرلڑائیوں میں ہی گزری۔دراصل امن اور جنگ متضاد نہیں۔بعض دفعہ امن اور جنگ ایک ہی ہوتا ہے۔بعض دفعہ جنگ امن کے خلاف ہوتی ہے اور بعض دفعہ جنگ ایک حد تک امن کے خلاف ہوتی ہے اور ایک حد تک اس کے موافق بعض دفعہ امن کے قیام کے لئے جنگ کرنی پڑتی ہے اور بعض دفعہ امن کی بربادی کے لئے جنگ کی جاتی ہے اور بعض دفعہ تین کمان حالت ہوتی ہے۔یعنی نہیں تو امن قائم کرنے کی ہوتی ہے لیکن فعل امن کو برباد کرنے والا ہوتا ہے۔پائیں تو امن کو برباد کرنے والی ہوتی ہے لیکن فعل امن قائم کر دیتا ہے۔پس جبکہ قیام امن کے لئے جنگ بھی ضروری ہوتی ہے تو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری اولادیں بہادر اور مضبوط دل کی ہوں۔ہمارے ملک میں بہت بڑی مصیبت یہ ہے کہ جب مردوں کے لئے کوئی خاص کام کرنے کا وقت آتا ہے تو عورتوں میں شور پڑ جاتا ہے کہ ہمارے بچے ، ہمارے بھائی ، ہمارے خاوند ، ہمارے دوسرے رشتہ دار تکلیف میں مبتلا ہو جائیں گے۔رسول کریم ﷺ کو جہاں مرد جری اور بہادر ملے تھے وہاں عورتیں بھی نہایت قوی دل اور حوصلہ والی ملی تھیں۔رسول کریم ﷺ اور آپ کے غلاموں نے بڑے بڑے کا رہائے نمایاں سرانجام دئے ورنہ اگر میدان جنگ میں جانے کے لئے گھر سے نکلنے والا مرد گھر میں ہی روتی ہوئی ماں ، چلاتی ہوئی بیوی ، اور بیہوش بہن کو چھوڑ کر جائے گا تو بہادرانہ کام نہیں کر سکے گا کیونکہ اس کے دل پر غم کا بادل چھایا ہوا ہوگا معلوم نہیں گھر میں کیا کہرام مچا ہوا ہوگا۔لیکن اگر وہ گھر والوں کو ہشاش بشاش چھوڑ کر جاتا ہے تو اُس کا دل خوش ہو گا اور وہ سمجھے گا کہ میں اپنے گھر میں کسی کو افسردہ دل نہیں چھوڑ کر آیا اور اس خوشی میں وہ پوری طرح جان کی بازی لگا سکے گا۔ہماری جماعت جوں جوں ترقی کر رہی ہے اس کے سامنے نہایت اہم کام آرہے ہیں اور ہم نہیں جانتے