اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 219
219 ولا نا ضروری سمجھتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ انجمنوں کی زندگی در اصل قانون کی زندگی ہوتی ہے۔کسی ایک فرد سے کام لے کر بہت سے افراد کے ہاتھوں میں کام دینے کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ افراد متحدہ جدو جہد کے احترام کے عادی ہو جائیں اور ان کے اندر یہ مادہ پیدا ہو جائے کہ اگر کسی وقت ایک لیڈر سے انجمن محروم ہو جائے تو کام کے تسلسل میں فرق نہ پیدا ہو۔اس غرض کو پورا کرنے کے لئے یہ اہم اور ضروری بات ہوتی ہے کہ ہمیشہ قانون کی پابندی کی جائے اور قانون کی پابندی کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ قانون مقررہ الفاظ میں موجود ہو۔جہاں لجنہ کی میرات اپنے کام کو وسیع کرنے کے لئے جدو جہد کر رہی ہیں وہاں انہیں اپنے ہی قانون سے با ہر نہیں نکلنا چاہئے۔اس ایڈریس میں جو اس وقت پڑھا گیا ہے ایک سکول کا ذکر ہے مگر میرے پاس جو اوہ کی رپورٹ پہنچتی رہی ہے اُس میں اس کا ذکر اس رنگ میں نہیں تھا۔ممکن ہے لھند نے اس کے متعلق ریزولیوشن پاس کیا ہو اور مجھے وہ ریز رولیوشن نہ پہنچا ہو۔اس میں اور جس بات کا ذکر کیا گیا ہے بہت فرق ہے۔پس ممبرات لجنہ کو یا درکھنا چاہیئے۔قانون پاس کرنے سے قبل کوئی کام نہ شروع کریں خواہ وہ کام کتنا بڑا اور کتنا مفید ہی کیوں نہ ہو۔اور میں تو کہوں گا اگر جہاد بھی لجنہ کے فیصلہ پر منحصر ہو تو فیصلہ سے قبل وہ بھی شروع نہیں ہونا چاہیے۔اختلاف سے گھبرانا نہیں چاہیئے دوسری بات جس کی طرف میں لجنہ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جب کوئی جماعت نظام کے ماتحت کام کرنا شروع کرتی ہے تو چونکہ وہ پہلے نظام کے ماتحت کام کرنے کی عادی نہیں ہوتی اس لئے کام کرنے والوں میں اختلاف پیدا ہوتا ہے ایسے اختلافات سے گھبرانا نہیں چاہئے۔اس قسم کے اختلاف سے نظام کی وہ خامیاں ظاہر ہوتی ہیں جو ابتدائی کاموں میں عموما پائی جاتی ہیں۔قانون کی خامیاں وکلاء کے بالمقابل کھڑے ہونے سے ہی ظاہر ہوتی ہیں اور اس طرح قانون مکمل ہوتا چلا جاتا ہے۔پس اگر لجنہ کے کاموں میں اختلاف پیدا ہو تو اس سے گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ اختلاف تو نقائص کی طرف توجہ دلاتا ہے اور دوسرے کی خامیاں ظاہر کرتا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قانون مکمل ہوتا جاتا ہے اور قانون کے مکمل ہونے سے کام کو پختگی حاصل ہوتی جاتی ہے۔پس اختلاف سے گھبرانا نہیں چاہیئے بلکہ اس کی قدر کرنی چاہیئے دیکھو