اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 206
206 اچھی تھیں ، وہ جنگوں میں بھی شامل ہوتی تھیں، دشمن کو مارتی بھی تھیں مگر اب بے نقاب پھرنے والی کچھ نہیں کر رہیں۔دراصل صحت امید اور امنگ سے قائم رہتی ہے جب کسی میں امنگ ہی نہ ہو تو چاہے اسے پہاڑ کی چوٹی پر کھڑا کر دو وہ نیچے ہی گری ہوئی ہو گی اور اگر امنگ اور امید ہو تو خواہ لحاف اوڑھا وہ پھر بھی بلند ہوتی جائیگی کلیلہ والے نے ایک چوہے کی مثال لکھی ہے کہ کسی نے کسی شخص سے شکایت کی کہ چوہا ہر چیز خراب کر دیتا ہے۔اس نے کہا اونچی جگہ رکھ دیا کرو۔اس کے جواب میں شکایت کرنے والے نے کہا چوہا وہاں بھی اُچھل کر پہنچ جاتا ہے اُس نے کہا پھر کوئی بات ہے۔تم چوہے کا بل کھو دو جب بل کھودا گیا تو اُس میں سے نقدی نکلی وہ اُس نے لے لی۔پھر جب چو ہ باہر آیا تو بالکل ادھ موا تھا۔اچھی طرح چل بھی نہ سکتا تھا۔یہ چوہے کی تو مثال دی گئی ہے انسانوں کی بھی یہی حالت ہوتی ہے کسی بات پر ہمت اور جوش پیدا ہوتا ہے۔وہ عورتیں جو کھلے منہ پھرتی ہیں وہ ان عورتوں کے مقابلہ میں کیا کر سکتی ہیں جو عرب میں منہ پر نقاب ڈال کر رہتی ہیں۔وجہ یہ کہ عرب کی عورتوں کو اپنے ملک میں آزادی حاصل ہے اس لئے باوجود پردہ کی پابندی کرنے کے وہ طاقتور اور مضبوط ہوتی ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ موجودہ پر دو کی اصلاح کی جائے جب تک یہ قائم رہے گا اُس وقت تک اُن کا پلہ بھاری رہے گا جو پردہ کے خلاف ہیں اور یہ اصلاح اس طرح ہوسکتی ہے کہ عورتیں تعلیم یافتہ ہوں وہ خود شرعی پردہ پر عمل کریں۔پردہ کرتی ہوئی کام کاج کرتی رہیں، اُن کی صحت بھی اچھی ہو، وہ عورتوں کو بتائیں کہ دیکھو پردہ کی پابندی کرتے ہوئے ہر طرح کی ترقی کی جاسکتی ہے۔ایسی عورتوں کی باتوں کا عورتوں پر اثر ہو سکتا ہے مردوں کے کہنے کا نہیں ہوتا کیونکہ عورتیں کہہ دیتی ہیں کہ تم باہر پھرتے ہو تمھیں کیا معلوم ہے کہ پردہ کی کیا تکالیف ہیں۔میرے نزدیک یہ بھی ظلم کیا جاتا ہے کہ چھوٹی عمر میں ہی لڑکیوں کو بُرقعہ اڑھادیا جاتا ہے اس سے اُن کی صحت پر بھی بُرا اثر پڑتا ہے قد بھی اچھی طرح بڑھ نہیں سکتا۔جب لڑکی میں نسائیت پیدا ہونے لگے اُس وقت سے پردہ کرانا چاہیئے۔از الفضل ۶۔جولائی ۱۹۲۸ نمبر ۲ جلد ۱۶) پردہ کے متعلق مزید گفتگو مغرب کے قریب جناب مشرف حسین صاحب ایم۔اے دہلوی انسپکٹر ڈاکخانہ جات حضور کی ملاقات