اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 188
188 شادی شدہ ہیں اور تھوڑی بن بیاہی ہیں۔پھر زیادہ ہیں جو پہلے ہی تعلیم یافتہ ہیں اور تھوڑی ایسی ہیں جو کم علم رکھتی ہیں۔ان سے ہم امید رکھتے ہیں کہ جو اپنے گھروں میں رہنے والی ہوں گی وہ بھی وقت دیں گی اور سکول میں لڑکیوں کو پڑھائیں گی تاکہ لڑکیوں میں تعلیم بڑھے۔دنیا میں یہ جیب بات ہے کہ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی چیز کا منبع وسیع ہوتا ہے مگر علم میں یہ بات ہے کہ منبع چھوٹا ہوتا ہے اور آگے جا کر زیادہ وسعت ہو جاتی ہے۔استاد سے لڑ کا زیادہ علم رکھتا ہے جس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ شاگرد کو استاد سے ورثہ میں تجربہ اور عقل بھی ملتی ہے اس لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں بے شک یہ عورتیں ایسی نہ ہوں گی جنہیں ہم مکمل استانیاں بنا سکیں مگر ان سے جو تعلیم پائیں گی وہ ان سے اعلے ہوں گی۔پھر ان سے جو تعلیم پائیں گی وہ ان سے اعلی ہوں گی۔یہی یورپ میں ہوا اور یہی یہاں بھی ہو سکتا ہے۔ہم سکول میں بھی مرد مدرس رکھ کر تعلیم دلا سکتے ہیں مگر اس طرح ایسی کامیابی کی امید نہیں ہو سکتی جیسی اس صورت میں ہے کہ مردوں کے ذریعہ استانیاں تیار کی جائیں اور وہ آگے لڑکیوں کو پڑھائیں تا کہ وہ اپنی شاگردوں سے نس کھیل بھی سکیں۔تربیت تب ہی عمدگی سے ہو سکتی ہے جبکہ استاد شاگرد آپس میں کھیل بھی سکیں۔مرد یہ نہیں کر سکتے۔ہاں اگر یہ استانیاں کام کی ہو جائیں تو یہ لڑکیوں سے مل کر رہ سکیں گی جولڑکیوں کی استاد بھی ہوں گی اور ہمجولی بھی۔لڑکیاں ان کے ساتھ کھل کر باتیں بھی کرسکیں گی اور ان کے رنگ میں رنگین ہو جائیں گی۔ہم امید رکھتے ہیں کہ اگر اللہ تعالے چاہے تو یہ استانیاں تیار ہو کر ہماری جماعت کی تعلیم مکمل ہو سکے گی۔ہم پر دوسروں کی نسبت بہت زیادہ ذمہ داریاں ہیں۔دوسرے لوگ یا تو جہالت پسند کرتے ہیں کہ عورتوں کو تعلیم ہی نہ دلائی جائے۔یا پھر یورپ کی نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ہم جہالت کو پسند نہیں کرتے کیونکہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں ہر حکمت کی بات مومن کی گمشدہ چیز ہے جہاں پائے۔لے لے۔مگر دوسری طرف ہم یورپ کی نقل بھی نہیں کر سکتے اس وجہ سے ہمیں نیا طریق اختیار کرنا ہے۔نیا اس لئے کہ اب تک جاری نہیں ورنہ اسلام میں تو موجود ہے۔اب ہم نے جو کوشش شروع کی ہے وہ اگر چہ بہت چھوٹے پیمانہ پر ہے لیکن ہر بات جو ابتداء میں چھوٹی معلوم ہوتی ہے اور اپنے وقت پر اس کا نتیجہ نکلتا ہے۔یہی مدرسہ احمد یہ جو اس حد تک ترقی کر گیا ہے اس کے متعلق کئی دفعہ بعض لوگوں نے چاہا کہ اسے توڑ دیا جائے مگر جو توڑنے والے تھے وہ خود آج زبان حال سے کہہ رہے ہیں رُبَّمَا يَوَد الَّذِينَ الله