اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 181

181 دینے لگ گئے۔اس سے اُس احمدی کو سخت رنج ہو ا کہ میں ان کی مجلس میں کیوں آیا۔انہوں نے جب دیکھا کہ یہ کچھ ہوتا نہیں تو پوچھا میاں تم کچھ بولے نہیں۔احمدی نے کہا بولوں کیا میں اپنے آپ کو ملامت کر رہا ہوں کہ حلقہ کی عادت نہ ہوتی تو یہ باتیں نہ ملنی پڑتیں۔آخر اس نے عہد کیا کہ میں آئندہ کبھی حلقہ نہ پیوں گا۔تو عادت انسان کو گناہ کے لئے مجبور کر دیتی ہے۔کافروں کو جلن پھر سعیر وہ آگ ہوتی ہے جو ان کے اندر لگی ہوتی ہے اور انہیں تسلی نہیں ہونے دیتی۔دیکھو ایک بت پرست کے سامنے جب ایک مومن اپنے خدا کی وحدانیت بیان کرتا ہے تو وہ کس قد رجلتا ہے۔اور ایک عیسائی کے سامنے جب ایک یہودی کہتا ہے کہ تمھارا خداوہی ہے جس کو ہم نے کانٹوں کا تاج پہنایا اور یہ یہ تکلیفیں دیں تو اس کے سینہ میں کس قدر جلن پیدا ہوتی ہے۔تو کافروں کے دلوں میں ایک آگ ہوتی ہے جو ان کو جلاتی ہے۔ایک دفعہ ایک یہودی حضرت عمر سے کہنے لگا مجھ کو تمھارے مذہب پر رشک آتا ہے اور میرا سینہ جلتا ہے کہ کوئی بات نہیں جو اس شریعت نے چھوڑی ہو کاش کہ یہ سب باتیں ہمارے مذہب میں ہوتیں۔تو یہ ایک آگ ہے جو اُن کو جلاتی ہے۔اس کے مقابلہ میں اللہ تعالے مومن کا حال اس آیت میں بیان فرماتا ہے إِنَّ الْأَبْرَارَ يَشْرَبُونَ مِن كَأْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًا۔یعنی کافروں کے مقابلہ میں خداوند کریم مومنوں کو کافوری پیالہ پلاتا ہے۔کافور کی خاصیت ٹھنڈی ہے۔پس جہاں کا فر کا سینہ جلتا ہے اُس کے مقابلہ میں مومن کا مزاج کا فور ہو جاتا ہے۔یعنی جہاں کا فر جلتا ہے مومن خوش ہوتا ہے کہ میرے مذہب جیسا کوئی مذہب نہیں۔توحید کی تعلیم اور کلام الہی اس کے سامنے ہوتا ہے۔ایک مسلمان جس وقت قرآن پڑھتا ہے کہ وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں اُن پر فرشتوں کا نزول ہوتا ہے اُن کو الہام ہوتا ہے تو اس کا دل اس بات پر کس قدرخوش ہوتا ہے کہ میں خدا تعالے سے کس قدر قریب ہوں۔اسلام پر چلنے سے ہی خدا سے تعلق ہوتا ہے۔اس کے مقابلہ میں وید کا ماننے والا جب وید پڑھتا ہے تو کس قدر کڑھتا ہے کہ خدا جو وید کے رشیوں سے کلام کرتا تھا اب مجھ سے نہیں کرتا میں کیا اس کا سوتیلا بیٹا ہوں۔تو مومن خوش ہوتا ہے اور کا فرجاتا ہے۔