اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 173 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 173

173 حلقے میں چلے گئے ، وہ ہمارے رشتہ دار تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چچا زاد بھائی تھے مگر سلسلہ کے سخت مخالف تھے کی خاطر جب وہ احمدی وہاں جا بیٹھے تو مرزا امام دین نے حضرت صاحب کو گالیاں دینی شروع کر دیں اور لگے ہنسی اور تمسخر کرنے وہ تھے کی خاطر سب کچھ بیٹھے سنتے رہے۔وہ کہتے ہیں اُسی وقت میں نے دل میں ارادہ کر لیا کہ اب گلہ نہ پیوں گا اس نے مجھے ذلیل کرایا ہے۔اُن کے اندر کچھ ایمان تھا اس لئے وہ بچ گئے ورنہ کئی شخص یہاں آئے اصلاح کے واسطے مگر یلہ کے لئے اُس مجلس میں گئے اور خراب ہو گئے کھئے اور تمباکو کی عادت انسان کو نہایت پست ہمت اور دوسرے کا غلام بنا دیتی ہے۔پٹھان کشمیریوں کو حقیر جانتے ہیں گو ہندوستان میں اُن کی ایسی حالت نہیں جیسی کشمیر میں ہے۔وہاں سے جو لوگ محنت مزدوری کے لئے آتے ہیں عموماً ان کو لوگ حقیر سمجھتے ہیں۔میں نے دیکھا ایک پٹھان جس کی نسوار کی ڈبیہ نہیں گر گئی تھی وہ نسوار کے لئے بیقرار ہو کر ایک کشمیری سے جو اُس کے پاس سے گزرا بڑی لجاحت سے کہنے لگا۔بھائی کشمیری جی تمھارے پاس نسوار ہے؟ تو عادت انسان کو غلام بنا دیتی ہے اور اُس کے حوصلہ کو پست کر دیتی ہے۔میری تو اللہ تعالے نے ایسی طبیعت بنائی ہے کہ کسی چیز کی مجھے عادت پڑتی ہی نہیں۔جب میں بچہ تھا اُس وقت بیماری کی وجہ سے چھ ماہ تک مجھے افیون کھلائی گئی لیکن مجھے اُس وقت بھی اس کی عادت نہ پڑی۔والدہ صاحبہ کہتی ہیں جس روز نہیں کھلائی جاتی تھی اُس روز بھی مجھے کوئی تکلیف نہ ہوتی تھی۔میں چائے پیتا ہوں گو مجھے عادت نہیں ہوتی تا ہم میں چھوڑ بھی دیا کرتا ہوں کہ ممکن ہے کہ کسی وقت کمزوری پیدا ہو جائے۔تو سگریٹ پینے والے اور حلقہ نوش جہاں کہیں لوگوں کو تمبا کو بیتے دیکھتے ہیں طلہ کے لالچ میں اُن کے پاس جا بیٹھتے ہیں۔وہ لوگ نیک ہوں یا ہد اللہ کی حرص ان کو وہاں کھینچ لے جاتی ہے۔ایک ہندو کا قصہ بیان کرتے ہیں اُسے حلقہ نوشی کی عادت تھی۔وہ کہیں جارہا تھا اُسے حقہ کی خواہش ہوئی ایک چوڑھے کا حقہ رکھا تھا وہ لے کر پینے لگ گیا حالانکہ چوڑھے کا حقہ پینا تو درکنار ہند و چوڑھے کو اپنے ساتھ بھی نہیں لگنے دیتے۔جب اُس نے چوڑھے کو آتے دیکھا تو دل میں خیال کیا یہ اب مجھے جتلائے گا اس لئے اُسے آواز دے کر کہنے لگا اس بات کا کسی سے ذکر نہ کرنا اور حقہ پی کر خموشی سے اٹھ کر چلا گیا۔تو ہر ایک قسم کی بد عادت سے بچے رہنا چاہئے تا انسان غلامی سے آزاد ہے۔علاوہ اس کے کہ حلقہ نوشی تمام بد اخلاقیوں کا منبع ہے اور اس سے انسان پست ہمت اور دوسروں کا غلام