اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 172
172 ہوا ہو تو یہ اُس کی غلطی ہوگی۔ہمیشہ سوال کی نوعیت کو دیکھنا چاہیئے۔بعض سوال اخلاقی ہوتے ہیں جن کی نوعیت کو دیکھنا ضروری ہوتا ہے کیونکہ اُن کے ساتھ حالات اور واقعات بدلتے رہتے ہیں اور بعض سوال مادی ہوتے ہیں جن کی نوعیت کو نہیں دیکھا جاتا بلکہ ان کی صحت دیکھی جاتی ہے۔جتنے اخلاقی امور ہیں اُن کو انسان چھپا سکتا ہے اور اُن کے حالات بدلتے رہتے ہیں لیکن بعض مادی اور ظاہری احکام ہوتے ہیں ان کو چھپانے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔مثلا سر کے بال ہیں کہ ہر ایک کی نظر ان پر پڑ سکتی ہے بلکہ سر کے بالوں کو تو ٹوپی وغیرہ کے نیچے چھپایا بھی جا سکتا ہے لیکن ٹھوڑی منڈی ہوئی کو تو کوئی نہیں چھپا سکتا۔مجھے افسوس ہے کہ بعض بڑے آدمی بھی ڈاڑھی منڈاتے ہیں۔بڑے آدمی سے میری مُراد بڑی عمر کے آدمی ہیں۔اگر انہیں کوئی منع کرے تو کہہ دیتے ہیں۔کیا ڈاڑھی رکھنا اسلام کے اصول میں سے ہے؟ حالانکہ اگر وہ گھر میں بیوی سے کہیں کہ چاول پکانا یا فلاں قسم کا لباس پہنا اور پھر وہ نہ پہنے یانہ پکائے اور کہہ دے کہ یہ کوئی اسلام کے اصول میں سے ہے تو اس جواب کو وہ کبھی پسند نہ کریں گے۔میں پوچھتا ہوں جس صورت میں اُن کی بیوی جب یہ جواب اُن کو دے اُسے وہ سٹنا پسند نہیں کرتے۔تو جب اپنے او پر بات آتی ہے پھر وہ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ کیا یہ کوئی اسلام کے اصول کی بات ہے۔پس میں ایک تو اپنے طالب علموں سے یہ چاہتا ہوں کہ وہ ان ظاہری احکام اور شعار اسلام کی پوری پوری پابندی کریں جن کو ہر ایک شخص دیکھ سکتا اور رائے لگا سکتا ہے کہ وہ شعار اسلام کی حرمت کرتے ہیں یا پابندی۔دوسری بات جو اخلاق کی درستی کے لئے ضروری ہے اور جس سے اسلام نے اصول ا منع کر دیا ہے وہ یہ ہے کہ کسی نقصان رساں چیز کی عادت نہ ڈالنا چاہیئے۔دیکھو شراب سے شریعت نے منع کر دیا ہے کیونکہ اس کی ایسی عادت پڑ جاتی ہے جو چھوٹ نہیں سکتی اور انسان کئی قسم کے گناہوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔اس قسم کی عادت انسان کی آزادی کو کھو دیتی ہے اور دوسرے کا غلام بنادیتی ہے حلقہ نوشی یا سگریٹ نوشی یہ دونوں باتیں بھی ایسی ہی ہیں جن کی عادت سے بڑی بڑی بد اخلاقیاں پیدا ہوتی ہیں۔ایک دفعہ ایک احمدی یہاں آئے انہیں ایسا واقعہ پیش آیا جس سے متاثر ہو کر کہنے لگے اب میں کبھی نہیں پیوں گا اس کی وجہ سے آج مجھے بہت ذلت اٹھانی پڑی۔ان ایام میں یہاں عام طور پر حملہ نہیں ملتا تھا اب تو میں دیکھتا ہوں بازاروں بلکہ گلیوں سے بھی ہمارے گھر تک حقہ کی بُو آتی ہے، اُن کو ٹھے کی عادت تھی۔وہ تلاش کرتے کرتے مرزا امام دین کے