اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 171 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 171

171 اصول میں سے نہیں لیکن آنحضرت نے کی فرمانبر اوری کرنا اسلام کے اصول میں سے ہے۔چونکہ آپ نے حکم فرمایا ہے کہ ڈاڑھی رکھو اس لئے رکھنا ضروری ہے۔یہ ایسا ہی سوال ہے جیسے مثلاً کوئی پوچھے کیا لکڑیاں اُٹھانا اسلامی اصول میں داخل ہے۔اور جب اُسے کہا جائے کہ نہیں تو اس سے دو یہ نتیجہ نکالے کہ جب اس کے باپ نے اُسے لکڑیاں اٹھا کر لانے کے لئے کہا اور اس کے انکار کر دینے پر اُسے مارا تو یہ بڑا ظلم کیا۔بیشک لکڑیاں اٹھانا اصول اسلام میں داخل نہیں لیکن جب کوئی یہ سُنے گا باپ نے اسے لکڑیاں اٹھانے کیلئے کہا اور اس نے انکار کر دیا تو کوئی بھی اُسے مظلوم قرار نہیں دے گا بلکہ ہر ایک اس کو ملامت کرے گا کیونکہ اسلام ماں باپ کی فرمانبرادری اور اطاعت کا حکم دیتا ہے۔یا مثلا کوئی سوال کرے کہ کیا مجلس میں آگے ہو کر بیٹھنا کوئی اسلامی اصول کی بات؟ تو ہر ایک یہی جواب دے گا کہ نہیں بلکہ پیچھے بیٹھنے کو انکساری بتا ئیں گے لیکن اگر کسی کو یہ پتہ لگے کہ نبی یا خلیفہ نے اُسے آگے بیٹھنے کے لئے کہا تھا اور اس نے انکار کر دیا تو پھر اس کے پیچھے بیٹھنے کو کوئی انکساری نہیں کہے گا کیونکہ اس نے باوجود آقا کے حکم کے صدر میں بیٹھنے سے انکار کر دیا۔اسی طرح ایک سپاہی اگر کسی ڈاکٹر سے پوچھے گا کہ کیا رات کو جاگتے رہنا اچھی بات ہے؟ تو ڈاکٹر یہ نہیں کہے گا کہ ہاں اچھی بات ہے بلکہ وہ یہی کہے گا۔آرام کرنا چاہیئے لیکن اگر اس سے وہ نتیجہ نکالے کہ رات کو پہرہ کے وقت سو جانے کی سزا میں جو اس کا کوٹ مارشل کیا گیا ہے یہ اس پر ظلم ہوا ہے کیونکہ ڈاکٹر کہتا ہے کہ ساری رات جاگنانہ چاہئے تو یہ درست نہیں ہوگا۔اس وقت ڈاکٹر بھی اُسے یہی کہے گا کہ تجھے جاگنا چاہئے تھا کیونکہ فوجی افسر کا تیرے لئے یہ حکم تھا کہ تو جاگے اور پہرہ دے۔اسی قسم کا امریکہ کا ایک واقعہ ہے۔ایک شخص کو جو ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا نہایت خطرہ کے وقت پہرہ پر مقرر کیا گیا جس دوسرے سپاہی نے اس کا پہرہ بدلوانا تھا وہ نہ آیا اور زیادہ دیر ہو گئی۔وہ چونکہ پہرہ دیتا تھک گیا تھا اس لئے اُس نے جب ایک جگہ ٹیک لگائی تو سو گیا اسی حالت میں افسر آ گیا اے گرفتار کر کے اس پر مقدمہ چلایا گیا۔چوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ یہ سپاہی تھ کا ہوا تھا جس کی وجہ سے اس کی آنکھ لگ گئی اور پہرہ بدلوانے والے نے غلطی کی مگر ایسی حالت میں اگر دشمن آجاتا اور اس کو غافل پا تا تو ہزاروں جانیں ضائع ہو جا تیں اس لئے باوجود اس کے کہ وہ اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا اس کو گولی سے مارڈالا گیا۔اب اس واقعہ کو اگر کوئی پیش نہ کرے اور کہے اس پر بڑا ظلم ہوا۔سونا بھی کوئی جرم ہے ؟ خصوصا جب کہ کوئی شخص سخت تھکا