اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 166 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 166

166 سے بجائے اس کے کہ بچے کی خواہشات کو مار دیں اور بھی اُس کی خواہشات کو ابھارتے ہیں حالانکہ اگر بچے کو سمجھایا جائے کہ بچہ ہم غریب ہیں ہم یہ چیز نہیں خرید سکتے تو بچے جیسا صابر بھی کوئی نہیں وہ اتنا کہہ دینے سے بھی خوش ہو جاتا ہے۔لیکن اگر اپنے پاس کچھ نہیں اور بچے کی خواہش کو دوسروں سے چیز لے کر پوری کریں کے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بچے کے اندر صبر اور قناعت کا مادہ نہیں پیدا ہو گا اور اس کی حرص بہت بڑ ھ جائے گی۔پس غرباء کو چاہیئے کہ وہ اپنے بچوں کی خواہشات کو ابھاریں نہیں بلکہ ان کو مارنے کی کوشش کریں تا ان کے اندر صبر اور قناعت کا مادہ پیدا ہو۔پھر ایسے مقامات پر بچے کو کھڑا نہیں رہنے دینا چاہیئے جہاں امراء اچھی چیزیں کھارہے ہوں۔بچوں کو ہی ایسے مقامات پر کھڑا ہونے سے نہیں روکنا چاہیئے بلکہ بڑوں کو بھی میں حکم ہے۔لا تمدن عينيكَ إِلَى مَا متغنابہ کہ جو چیز تمہارے پاس نہیں ہے اگر وہ دوسروں کے پاس ہے تو اس کو دیکھنا بھی گناہ ہے کیونکہ اس ت خواہش بد پیدا ہو گی۔بعض غریب آدمی اپنے بچوں کو ایسے مقامات پر کہ جہاں امراء لوگ کھاتے پیتے ہوں کھڑے ہونے اور دیکھنے سے نہیں روکتے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس چیز کی اُن کے اندر حرص پیدا ہوتی ہے اور جب ان کی حرص پوری نہیں ہوئی تو پھر کسی نہ کسی طرح اس چیز کے حاصل کرنے کی بے جا کوشش کرتے ہیں۔اس لئے ماں باپ کا فرض ہونا چاہیئے کہ وہ بچوں کو ایسی جگہ سے روکیں اور وہاں ان کو کھڑا نہ ہونے دیں اور ایسی حالت میں کسی کا کچھ دیکھنا بھی عیب ہے جس سے لالچ اور حرص پیدا ہوتی ہے جو بچوں کی آوارگی کا موجب ہوتی ہے۔غرض والدین اپنے بچوں کی تربیت کے لئے اگر ان باتوں کی احتیاط رکھیں تو ان کے اخلاق کی درستگی میں بہت کچھ تقویت پیدا ہو سکتی ہے۔اس کے بعد میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ بچوں کے اخلاق اور عادات کی درستی اور اصلاح کے لئے میرے نز دیک سب سے زیادہ ضروری امر نماز با جماعت ادا کرنے کی عادت ڈالنی چاہیئے۔میں نے اپنے تجربہ میں نماز با جماعت سے بڑھ کر کوئی چیز نیکی کے لئے ایسی موٹر نہیں دیکھی۔سب سے بڑھ کر نیکی کا اثر کر نیوالی نماز با جماعت ہے۔اگر میں ان الصلوة تنهى عن الفحشاء والمنکر کی پوری پوری تشریح نہ کر سکوں تو میں اپنی زبان کا قصور سمجھوں گا ورنہ میرے نزدیک نماز با جماعت کا پابند انسان خواہ وہ اپنی بدیوں میں ترقی کرتے کرتے انیس سے بھی آگے نکل جائے پھر بھی میرے نزدیک اُس کی اصلاح کا موقعہ ہاتھ سے نہیں کیا۔