اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 167
167 ایک شمہ بھر اور ایک رائی کے برابر بھی میرے خیال میں نہیں آتا کہ کوئی شخص نماز با جماعت کا پابند ہو اور پھر اسکی اصلاح کا کوئی موقعہ نہ رہے۔خواہ وہ کتنا ہی بدیوں میں مبتلا کیوں نہ ہو گیا ہو نیکی کے متعلق نماز کے مؤثر ہونے کا مجھے اتنا کامل یقین ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بھی کہہ سکتا ہوں کہ نماز با جماعت کا پابند خواہ کتنا ہی بد اعمال کیوں نہ ہو گیا ہو اسکی ضرور اصلاح ہو سکتی ہے اور وہ ضائع نہیں ہوتا۔اور میں شرح صدر سے کہہ سکتا ہوں کہ آخری وقت تک اس کے لئے اصلاح کا موقع ہے اگر وہ نماز با جماعت کا پابند اس رنگ میں ہو کہ اُس کو اس میں لذت اور سرور حاصل ہو۔میرے نزدیک ان ماں باپ سے بڑھ کر اولاد کا کوئی دشمن نہیں جو بچوں کو نماز باجماعت ادا کرنے کی عادت نہیں ڈالتے۔مجھے اپنا ایک واقعہ یاد ہے۔ایک دفعہ حضرت صاحب کچھ بیمار تھے اس لئے جمعہ کے لئے مسجد میں نہ جا سکے۔میں اُس وقت بالغ نہ تھا کہ بلوغت والے احکام مجھ پر جاری ہوں تاہم جمعہ پڑھنے کے لئے مسجد کو آرہا تھا کہ ایک شخص مجھے ملا، اُس وقت کی عمر کے لحاظ سے تو شکل اس وقت یاد نہیں رہ سکتی مگر اس واقعہ کا اثر مجھے پر ایسا ہوا کہ اب تک مجھے اس شخص کی صورت یاد ہے محمد بخش اُن کا نام ہے وہ اب قادیان میں ہی رہتے ہیں۔میں نے اُن سے پوچھا آپ واپس آرہے ہیں کیا نماز ہو گئی ہے؟ انہوں نے کہا آدمی بہت ہیں مسجد میں جگہ نہیں تھی میں واپس آگیا میں بھی یہ جواب سنکر واپس آگیا اور گھر میں آکر نماز پڑھ لی۔حضرت صاحب نے یہ دیکھ کر مجھ سے پوچھا مسجد میں نماز پڑھنے کیوں نہیں گئے۔خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ میں بچپن سے ہی حضرت صاحب کا ادب ان کے نبی ہونے کی حیثیت سے کرتا تھا۔میں نے دیکھا آپ کے پوچھنے میں ایک تختی تھی اور آپ کے چہرہ سے غصہ ظاہر ہوتا تھا۔آپ کے اس رنگ میں پوچھنے کا مجھ پر بہت ہی اثر ہوا۔جواب میں میں نے کہا میں گیا تو تھا لیکن جگہ نہ ہونے کی وجہ سے واپس آگیا۔آپ یہ سنکر خاموش ہو گئے لیکن آب جس وقت جمعہ پڑھ کر مولوی عبدالکریم صاحب آپ کی طبیعت کا حال پوچھنے آئے تو سب سے پہلی بات جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ سے دریافت کی وہ یہ تھی کہ کیا آج لوگ مسجد میں زیادہ تھے؟ اس وقت میرے دل میں سخت گھبراہٹ پیدا ہوئی کیونکہ میں خود تو مسجد میں گیا نہیں تھا معلوم نہیں بتانے والے کو غلطی لگی یا مجھے اس کی بات مجھنے میں غلام نبی ہوئی ہے میں ان کی بات سے یہ سمجھا تھا کہ مسجد میں جگہ نہیں۔مجھے یہ فکر