اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 161
161 دوسری طرف بد صحبت بدی کا میلا ان اُس کے اندر پیدا کرتی ہے اور وہ ہمیشہ اسی کشمکش میں جتلا رہتا ہے اور نفس لوامہ کے اثر سے اس کو کبھی آزادی حاصل نہیں ہوتی۔ماں باپ کی تربیت اگر خشیتہ اللہ اس کے اندر پیدا کرتی ہے تو بد صحبت اُس کے مقابلہ میں اُس کی ہمت اور حوصلے کو پست کر دیتی ہے۔پس کامل تربیت اسی وقت ہو سکتی ہے جب اچھی تربیت کے ساتھ محبت بھی اچھی ہو۔لیکن جیسا کہ میں نے بتایا تھا بچوں کو کسی سے نہ ملنے دینا اور انہیں قید رکھنا بھی کوئی نیک نتیجہ پیدا نہیں کر سکتا کیونکہ اس طرح جہاں اُس کی تربیت نامکمل رہتی ہے وہاں اس کے اعضاء کی نشو و نما بھی اچھی طرح نہیں ہوسکتی۔وہ بچہ جسے بدی کے اثر سے بچانے کے لئے ہم عمر بچوں کے ساتھ کھیلنے کا موقعہ نہیں دیا جاتا ایک طرف اُس کی صحت خراب رہتی ہے اور اُس کے اعضاء پوری طرح نشو و نما حاصل نہیں کر سکتے دوسری طرف ایسے بچے ساری عمر بچے ہی رہتے ہیں خواہ اُن کی عمر چالیس پچاس سال کی ہی ہو جائے کیونکہ وہ اُسی وقت تک بدی سے بچے رہ سکتے ہیں جب تک کہ بدی اُن کے سامنے پیش نہیں ہوتی لیکن جب بھی بدی اُن کے سامنے پیش ہو وہ اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور جھٹ اس میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔پس بچوں کو دوسرے بچوں سے نہ ملنے دینے اور علیحدہ قید رکھنے سے ہم اُن کو بدی کے اثرات سے محفوظ نہیں رکھ سکتے بلکہ اس طرح اور بھی زیادہ اُن کو بدیوں کے اثرات کو جلد تر قبول کرنے کے قابل بنا دیتے ہیں۔ان حالات میں ہمیں دیکھنا چاہیئے کہ وہ کون سے طریق ہیں جن سے بچوں کی تربیت عمدگی کے ساتھ کی جاسکتی ہے۔سب سے پہلی بات جو بچے کی تربیت کے واسطے ماں باپ کے لئے ضروری ہے وہ یہ ہے کہ بچے کے ذہن میں کسی بدی کی نسبت یہ خیال نہ پیدا ہونے دیں کہ اس کی کوئی اہمیت نہیں تا وہ اس بدی کو حقیر نہ سمجھنے لگ جائے۔بہت سے ماں باپ ہیں جو دل سے چاہتے ہیں کہ بدی کا اثر اُن کے بچوں پر نہ ہو لیکن وہ اپنا نمونہ ایسا اُن کے سامنے پیش کرتے ہیں کہ بچوں کی نگاہ میں وہ بدی حقیر ہو جاتی ہے اور اس کی وجہ سے بدی کا خیال اُن کے دل میں پیدا ہو جاتا ہے۔مثلاً عام طور پر ماں باپ یہ چاہتے ہیں کہ بچہ جھوٹ نہ بولے لیکن خود اس کے سامنے جھوٹ بول لیتے ہیں۔بعض اوقات ایک کام سے جو انہوں نے کیا ہوتا ہے مگر بچے سے اس کو چھپانے کے لئے ( کیونکہ اُس کا چھپانا بچے کے حق میں مفید ہوتا ہے ) دو انکار کر دیتے ہیں۔یا اگر بالکل صاف انکار نہیں کرتے تو ٹال مٹول اور ہیر پھیر کرنے لگ جاتے ہیں تا بچے کا خیال اس کی طرف سے بدل جائے لیکن