اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 136
میں صرف کرتی ہیں۔136 اور میں <mark>اس</mark> امر کے اظہار سے رک نہیں سکتا کہ جہاں ہماری جماعت کے مردوں کے لئے دینی ترقی کے ر<mark>اس</mark>تے طے کرنے باقی ہیں وہاں ہماری جماعت کی <mark>عورت</mark>وں کے لئے بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے بلکہ میں یہ کہ سکتا ہوں کہ مردوں کی نسبت <mark>عورت</mark>وں میں ابھی دینی ترقی کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔دینی اور دنیاوی حالت اور چیز ہے اور کام کرنے کی قابلیت اور چیز ہے۔ایک ہیں کہ انہیں دل میں بہت <mark>جو</mark>ش ہے مگر ان کے لئے سامان نہیں۔یا تو سامان ہیں مگر انہیں <mark>اس</mark>تعمال نہیں کر سکتے۔مثلاً ایک آدمی بیمار ہے اور وہ چاہتا ہے کہ میں اچھا ہو جاؤں اور کونسا بیمار ہے <mark>جو</mark> یہ نہ چاہتا ہو کہ مجھے صحت ہو جائے۔مگر وہ جنگل میں ہے جہاں کوئی معالج یا ڈاکٹر نہیں <mark>مل</mark> سکتا۔یا اگر حسن اتفاق سے <mark>مل</mark> تو سکتا ہے لیکن <mark>اس</mark> کے پ<mark>اس</mark> ڈاکٹر کو دینے کے لئے فیس نہ ہو۔یا اگر فیس ہو بھی تو دوائی نہیں تو محض اچھا ہونے کی خواہش اور <mark>جو</mark>ش سے وہ تندرست نہیں ہو سکتا۔<mark>اس</mark>ی طرح بعض دفعہ انسان کے دل میں <mark>جو</mark>ش تو ہوتا ہے مگر <mark>اس</mark> کو سامان میسر نہیں آتے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ <mark>جو</mark>ش بھی ہوتا ہے اور سامان بھی میسر آ جاتے ہیں مگر اُن سامانوں سے کام نہیں لینا آتا تو وہ <mark>جو</mark>ش اور وہ سامان رکسی کام نہیں آتے۔ضرورت <mark>اس</mark> امر کی ہے کہ پہلے دل میں تڑپ ہو اور <mark>جو</mark>ش ہو پھر سامان ہوں اور اُن سامانوں کے <mark>اس</mark>تعمال کا علم ہو۔یہی حالت ہماری <mark>عورت</mark>وں کی ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ ان کے دل میں دین کی تعلیم اور <mark>اس</mark>لام کے حاصل کرنے کی خواہش ہے لیکن <mark>اس</mark> کے پورا کرنے کے سامان میسر نہیں۔کتنا ہی شوق اور <mark>جو</mark>ش ہو کہ خدا کی راہ میں کام کریں لیکن اگر سامان ہی نہ ہوں اور نہ اُن کے <mark>اس</mark>تعمال کا طریقہ آتا ہو تو کچھ نہیں ہو سکتا۔<mark>عورت</mark>یں جماعت کا ایک ایسا حصہ ہیں کہ جب تک اُن کی تعلیم و تربیت <mark>اس</mark> طرح نہ ہوئیں سمجھتا ہوں کہ ہماری جماعت کی ترقی اور تربیت میں بڑی سخت روک رہے گی۔اُن کی مثال <mark>اس</mark> ہیرے والے کی ہوگی <mark>جو</mark> اُس کے <mark>اس</mark>تعمال سے بے خبر ہو وہ اُسے ایک گولی سمجھ کر پھینک دیتا ہے۔مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ میں بمبئی گیا۔اُن دنوں وہاں ایک شخص پر مقدمہ چل رہا تھا کہ اُس نے چوری کے میرے خریدے ہیں۔<mark>بات</mark> یہ تھی کہ ایک <mark>جو</mark> ہری جار ہا تھ جاتے ہوئے <mark>اس</mark> کے بیروں کی پوڑ یہ گر گئی <mark>جو</mark>