اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 136

میں صرف کرتی ہیں۔136 اور میں اس امر کے اظہار سے رک نہیں سکتا کہ جہاں ہماری جماعت کے مردوں کے لئے دینی ترقی کے راستے طے کرنے باقی ہیں وہاں ہماری جماعت کی عورتوں کے لئے بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے بلکہ میں یہ کہ سکتا ہوں کہ مردوں کی نسبت عورتوں میں ابھی دینی ترقی کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔دینی اور دنیاوی حالت اور چیز ہے اور کام کرنے کی قابلیت اور چیز ہے۔ایک ہیں کہ انہیں دل میں بہت جوش ہے مگر ان کے لئے سامان نہیں۔یا تو سامان ہیں مگر انہیں استعمال نہیں کر سکتے۔مثلاً ایک آدمی بیمار ہے اور وہ چاہتا ہے کہ میں اچھا ہو جاؤں اور کونسا بیمار ہے جو یہ نہ چاہتا ہو کہ مجھے صحت ہو جائے۔مگر وہ جنگل میں ہے جہاں کوئی معالج یا ڈاکٹر نہیں مل سکتا۔یا اگر حسن اتفاق سے مل تو سکتا ہے لیکن اس کے پاس ڈاکٹر کو دینے کے لئے فیس نہ ہو۔یا اگر فیس ہو بھی تو دوائی نہیں تو محض اچھا ہونے کی خواہش اور جوش سے وہ تندرست نہیں ہو سکتا۔اسی طرح بعض دفعہ انسان کے دل میں جوش تو ہوتا ہے مگر اس کو سامان میسر نہیں آتے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جوش بھی ہوتا ہے اور سامان بھی میسر آ جاتے ہیں مگر اُن سامانوں سے کام نہیں لینا آتا تو وہ جوش اور وہ سامان رکسی کام نہیں آتے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پہلے دل میں تڑپ ہو اور جوش ہو پھر سامان ہوں اور اُن سامانوں کے استعمال کا علم ہو۔یہی حالت ہماری عورتوں کی ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ ان کے دل میں دین کی تعلیم اور اسلام کے حاصل کرنے کی خواہش ہے لیکن اس کے پورا کرنے کے سامان میسر نہیں۔کتنا ہی شوق اور جوش ہو کہ خدا کی راہ میں کام کریں لیکن اگر سامان ہی نہ ہوں اور نہ اُن کے استعمال کا طریقہ آتا ہو تو کچھ نہیں ہو سکتا۔عورتیں جماعت کا ایک ایسا حصہ ہیں کہ جب تک اُن کی تعلیم و تربیت اس طرح نہ ہوئیں سمجھتا ہوں کہ ہماری جماعت کی ترقی اور تربیت میں بڑی سخت روک رہے گی۔اُن کی مثال اس ہیرے والے کی ہوگی جو اُس کے استعمال سے بے خبر ہو وہ اُسے ایک گولی سمجھ کر پھینک دیتا ہے۔مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ میں بمبئی گیا۔اُن دنوں وہاں ایک شخص پر مقدمہ چل رہا تھا کہ اُس نے چوری کے میرے خریدے ہیں۔بات یہ تھی کہ ایک جو ہری جار ہا تھ جاتے ہوئے اس کے بیروں کی پوڑ یہ گر گئی جو