اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 121

121 طرف توجہ دلائے گی کہ اُن کی بیماری کی طرف توجہ کی جائے۔اس وقت ہمارے سلسلہ اور سلسلہ کے کاموں کے متعلق ایک نئی تحریک کے متعلق اسی قاعدہ کے مطابق صداقت ثابت ہوئی ہے۔تین چار ہفتے ہوئے میں نے مسجد برلن کے لئے اعلان کیا تھا۔ہماری جماعت غریب اور کمزوروں کی جماعت ہے پھر اس کے اخراجات کو دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ ایسی بڑی بڑی رقمیں جن کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے جمع کر سکتی ہے۔خلافت لڑکی کے لئے چندہ کی سارے ہندوستان میں تحریک کی گئی اور مسلمانوں میں ایسے ایسے لوگ موجود ہیں جو کیلے کروڑ کروڑ رو پی دے سکتے ہیں مگر اس کے باوجود اُن کی رقمیں دس بارہ لاکھ سے زیادہ نہ ہو سکیں اور اس کا اثر ایسا پڑا کہ اگر خلافت کے لئے چندہ دیتے ہیں تو یہاں کی تحریکوں کو چلانے کے لئے کچھ نہیں رہتا۔حتی کہ مرکزی خلافت کمیٹی کو فیصلہ کرنا پڑا کہ انگورہ فنڈ سے روپیہ کاٹ کر یہاں کے اخراجات میں لگایا جائے۔اس کے مقابلہ میں ہماری جماعتہے جو مال اور تعداد کے لحاظ سے یہاں کی سب اقوام سے کم ہے حتی کہ صرف پنجاب میں جتنے چوڑھے رہتے ہیں اُن سے بھی احمدی کم ہیں اور مال کے لحاظ سے بھا بڑے وغیرہ بہت چھوٹی اقوام بلکہ ان قوموں کے بعض افراد کے پاس جتنا مال ہے اتنا ہماری ساری جماعت کے پاس نہیں ہے مگر باوجود اس کے اللہ تعالیٰ اس جماعت سے جو کام لے رہا ہے اس کی طرف دیکھو کہ وہ کیسا عظیم الشان ہے۔ہندوستان میں سات آٹھ کروڑ کے قریب کہتے ہیں مسلمان ہیں۔پھر مسلمانوں کی زندگی اور موت کا سوال تھا ہمارے چندہ کے متعلق یہ سوال نہیں تھا۔مسجد لنڈن ایک تحریک تھی اور بہت با برکت اور ضروری تحریک تھی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ اگر انڈن میں مسجد نہ بنی تو ہم بلاک ہو جائیں گے۔اس طرح برلن میں مسجد کی تحریک ہے یہ مفید ہے مگر یہ نہیں کہ اگر مسجد نہ بنی تو ہماری جماعت ٹوٹ جائے گی۔میمز مسلمانوں کی تحریک ایسی تھی کہ وہ خود کہتے تھے اگر اس میں کامیابی نہ ہوئی تو مسلمان تباہ و برباد ہو جائیں گے لیکن باوجود اس کے اُن کے لئے چند لاکھ روپیہ جمع کرنا مشکل ہو گیا۔بالمقابل اس کے ہماری جماعت جوان کا سود ان حصہ بھی نہیں بنتی ایک لاکھ چند دنوں میں مسجد لنڈن کے لئے دیدیتی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہماری زندگی اور موت کا سوال ہو تو ہماری مٹھی بھر جماعت دو کروڑ روپیہ بھی جمع کر سکتی ہے اور اس سے زائد ہم اس لئے نہ جمع کریں گے کہ اور دینا نہ چاہیں گے بلکہ اس لئے کہ ہمارے پاس اور کچھ ہوگا ہی نہیں۔وہ