اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 118
118 مسلمان عورتوں میں اپنے مذہب کی اشاعت کا جوش ہے اور اس مسجد کی پیشانی پر جلی حروف میں لکھا جائے کہ احمدی خواتین کی طرف سے نو مسلم بھائیوں کے لئے یہ مسجد بنائی گئی۔اور پھر دوسرے لوگوں کی بھی آنکھیں کھل جائیں گی اور پیغامیوں کو بھی معلوم ہو جائے کہ احمدی خواتین اس قدر ہی چندہ دے دیتی ہیں جس قدر کہ وہ غیر لوگوں کے آگے اور ہاتھ پھیلا پھیلا کر چندہ جمع کرتے ہیں۔پس ہر جگہ عورتوں کو بتایا جائے کہ وہ اس کام کے لئے چندہ دیں اور تمام اخبارات جو قادیان سے نکلتے ہیں اس کام کے لئے چندہ کے واسطے تحریک کریں اور میرا یہ خطبہ شائع کر دیں تا کہ تمام وہ لوگ جو ان اخباروں سے تعلق رکھنے والے میں اپنے گھروں میں عورتوں کو بتا ئیں اور تحریک کریں کہ وہ تین ماہ کے اندر مسجد کے لئے چندہ دیں اور ہر جگہ مرد اپنی عورتوں کو یہ بات سُنا دیں اور یہاں جن کی عورتیں جمعہ میں نہیں آئیں وہ بھی اپنے گھروں میں اطلاع دیں اور اس کام کے لئے چندہ کے واسطے تحریک کریں۔اور یہ کام میں نے اس انجمن کے سپرد کیا ہے جس کا نام میں نے لجنہ اماءاللہ رکھا ہے۔ہندوستان میں ایک انجمن ہے جو اپنے آپ کو خادمان ہند بتاتے ہیں۔ہم تو کسی خاص قوم کے خادم نہیں ہم اللہ کے خادم اور غلام ہیں۔لجنہ اماء اللہ یعنی اللہ کی لونڈیوں کی انجمن۔اس لئے میں نے یہ نام اس انجمن کا رکھا ہے اور ان کے سپرد یہ کام کیا ہے لیکن چونکہ خالی عورتیں اگر تحریک کرتیں تو اُن کا اتنا اثر نہ ہوتا اس لئے میں نے اُن کی طرف سے یہ تحریک کی ہے۔عورتیں یہ نہ سمجھ لیں کہ چندہ جمع کرنا خاص خاص عورتوں کا ہی کام ہے بلکہ ہر عورت کھڑی ہو جائے اور باقی بہنوں سے تین ماد کے اندر چندہ جمع کرے۔اندان کی مسجد کے لئے زمین تو خریدی جا چکی ہے لیکن چونکہ اس کی عمارت پر ایک لاکھ روپیہ خرچ ہوتا تھا اس لئے وہ فورا نہ بنائی جاسکی۔لیکن بر تن کی مسجد کے لئے ایسا نہ ہوگا بلکہ ارادہ ہے کہ ادھر روپیہ جمع ہو اور اُدھر کام جاری کر دیا جائے۔چونکہ ہمیں یقین ہے کہ یہ کام ہو کر رہے گا اس لئے جو نہی روپیہ جمع ہونا شروع ہو گا فورا عمارت کا کام شروع کر دیا جائے گا۔میں اب خطبہ کے ذریعے تمام احمدی عورتوں کو تحریک کرتا ہوں کہ وہ اس کام کے لئے تین ماہ کے اندر پچاس ہزار روپیہ چندہ جمع کر دیں۔ہاں یہ یادر ہے کہ مردوں کا ایک چیسہ بھی