اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 113
113 (۷۲) بہترواں علم علاج بالمشورہ ہے۔یہ مسمریزم کے سوا ایک الگ چیز ہے۔اس میں بغیر اپنا زور یا توجہ صرف کرنے کے یونہی کہے کہ تم بیمار نہیں ہو۔خیال کے ساتھ جسم میں اثر ہو جاتا ہے اور اگر کسی بخار کے مریض کو کہا جائے کہ بخار نہیں تو اُترنے لگتا ہے۔یہ ایک علم ہے یونہی کہہ دینے سے اثر نہیں ہوتا۔نجوم ، جفر، رمل ، طلسمی علوم (۷۳) تہترواں علم علم نجوم ہے۔یہ علم البعیت نہیں جو پہلے بتایا تھا یہ وہ جہالت والا علم ہے۔ایک حد تک اس میں صداقت بھی ہے جیسے سورج کا کیا اثر ہوتا ہے۔اس علم میں اتنی ترقی نہیں کی کہ یہ باتیں معلوم ہو سکیں۔یہ علم تو سچا ہے۔خدا تعالیٰ نے کواکب میں تاثیرات رکھی ہیں مگر جس طریق پر لوگ اس کو استعمال کرتے ہیں وہ غلط ہے۔لوگ اس کو غیب کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں اور غیب کی خبریں بتانے کا دعوی کرتے ہیں۔یہ غلط ہے، غیب کا علم اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس رکھا ہے۔(۷۴) چوہترواں علم علم الجفر ہے۔اس میں ہندسوں کے ذریعہ آئندہ کی خبریں معلوم کرتے ہیں۔(۷۵) چھتر واں علم الرمل ہے۔لکیروں کے ذریعے حالات معلوم کرتے ہیں۔(۷۶) چھہترواں علم علم الاستخارہ ہے۔یہ وہ اسلامی علم نہیں جس کو استخارہ کہتے ہیں بلکہ یہ وہ ہے کہ تی لے کر بیٹھے رہتے ہیں اور اس کے دانوں سے ایک نتیجہ نکالتے ہیں۔بعض عورتیں عید لین کا فالنامہ دیکھتی ہیں۔یہ ڈھکوسلے ہیں ان میں کوئی صداقت نہیں ہوتی۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے نجومی کہہ دیتے ہیں لڑکی نہ لڑکا۔(۷۷) ستترواں علم طلسم کا علم ہے۔اس کو جادو بھی کہہ دیتے ہیں۔دراصل یہ علم علاج بالمطوروی کی شاخ ہے۔پڑھ کر کوئی چیز دے دیتے ہیں یا ہند سے لکھ کر کوئی کاغذ کا ٹکرا بطور تعویذ دے دیتے ہیں۔(۷۸) اٹھتر ھواں علم علم التسخیر ہے جس کے ذریعہ دوسروں کو یا بچوں کو قابو کیا جاتا ہے۔یورپ والے بھی اس میں مبتلا ہیں۔(۷۹) نواسیواں علم جس نے دُنیا میں تباہی مچائی ہے وہ علم کیمیا ہے۔یہ سونا بنانے کا خبط ہے۔بہت لوگ اس خبط سے تباہ ہوئے ہیں۔بعض احمد کی بھی اس مرض میں مبتلا تھے مگر اب وہ اس میں جتلا نہیں۔ایک مولوی دہلی سے یہاں آیا اُسنے مجھ کو کہا کہ مولوی صاحب (حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ ) تو سونا بنایا کرتے تھے