اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 112

112 سے مُراددماغ کا وہ حصہ ہے جو اثر قبول کرتا ہے جس کو متاثر دل کہتے ہیں۔وہ باہر جاتا ہے اور دوسرے کو نظر آجاتا ہے۔(۵) پانچوں حصّہ اصلاح الاخلاق ہے جس کے ذریعہ بعض بد عادتوں کو چھڑا دیا جاتا ہے جیسے چور کی عادت وغیر ہ چھڑائی جاتی ہے۔(۷۰) سترواں علم روحوں کو بلانے کا علم ہے۔بڑے بڑے سائنسدان اس علم کو پڑھ رہے ہیں جو اور علوم کو چھوڑ کر اس کی طرف آرہے ہیں مگر دراصل یہ وہم ہوتا ہے۔عیسائیوں کو عیسائیوں کی اور ہندوؤں کو ہندوؤں کی بات بتائی جاتی ہے۔ایک آدمی پر توجہ ڈالی جاتی ہے اور وہ کہتا ہے کہ مجھ پر زوح آگئی ہے۔کبھی الگ آتی ہے اور وہ اپنے آنے کی علامت بتاتی ہے۔مثلاً کبھی گری اُلٹ دی یا کوئی اور فعل کر دیا۔روح تو نہیں آتی مگر یہ ایک علم ہے اور صحیح علم ہے۔(۷۱) اکہترواں علم علم القیافہ ہے۔اس علم کے جانے والے شکل دیکھ کر بناوٹ سے یہ بتا دیتے ہیں که مشخص کس قسم کے عادات اور خصائل کا ہے۔اس میں کس قسم کے خواص ہیں۔دھوکا، دعا محبت ، وفا وغیرہ جذبات کا اندازہ ہو جاتا ہے۔اس علم کی ایک شاخ علم ایکشرہ ہے۔چیرہ کی بناوٹ سے بنا دینا کہ اس کے اخلاق کسی قسم کے ہیں۔کانوں اور آنکھ کے فرق سے، ہونٹ ناک وغیرہ کی بناوٹ ، لمبائی اور موٹائی سے ہر قسم کے اخلاق کا پتہ دے دیا جاتا ہے۔دوسراحصہ اس علم کا علم الرآس ہے جس کو سرکا علم بھی کہتے ہیں۔یہ زیادہ بہتر حالت میں ہے جس قد را خلاق ہیں قتل ، خونریزی و غیر وان کا تعلق دماغ کے مختلف حصوں سے ہے۔خدا تعالیٰ نے دماغ کو کئی حصوں میں تقسیم کیا ہے اور انسان کے مختلف جذبات اور اخلاق کے لئے الگ الگ حصے ہیں۔جھوٹ، سچ ،فریب ،محبت وغیرہ کے لئے اس میں جد اخد ا کمرے ہیں۔پس اس علم کے ذریعہ سر کی پیمائش کر کے بتا دیا جاتا ہے کہ اس میں کونسا مادہ زیادہ ہے۔مثلاً حرص کا یا قناعت کا، غصب کا یا برداشت کا۔اس علم کا کمال یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر دماغ کے بعض حصوں کا اپریشن کر کے کم و بیش کر دیا جائے تو اس سے اخلاقی اصلاح میں بڑی مددل سکتی ہے۔یہ علم ترقی کر رہا ہے۔