اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 98
98 (۲) محمد ود سلطنت۔اس میں حکومت کے پورے اختیارات نہیں ہوتے۔بادشاہ رعایا کی مرضی کے بغیر کوئی کام نہیں کر سکتے۔(۳) حکومت نواب۔یعنی قائم مقاموں کی حکومت۔(۴) حکومت فردی یعنی ایک ہی شخص حکومت کرے جس کو شاہی حکومت بھی کہتے ہیں۔(۵) حکومت عوام۔یعنی عام لوگوں کی مرضی سے حکومت۔اس میں ایک بحث یہ ہے کہ آیا عام لوگوں کی حکومت بہتر ہے یا اس سے نقصان ہوتا ہے۔(۲) حکومت عقلاء۔چند عقلمندوں پر حکومت چھوڑ دی جائے۔(۷) حکومت امراء۔چونکہ سب سے زیادہ نقصان انقلاب حکومت پر امراء کا ہوتا ہے اس لیے بعض لوگ کہتے ہیں کہ امراء کا حق ہے کہ وہ حکومت کریں۔پھر اس میں بحث یہ ہے کہ آیا یہ مفید ہے یا نہیں۔(۸) حکومت پانچائی۔حکومت پنچائتی میں ایک حکومت نہیں ہوتی بلکہ حکومت کو پھیلا دیا جاتا ہے جیسے آج کل روس کی حکومت کو کہا جاتا ہے۔ہر جگہ اپنی حکومت ہے۔بادشاہ ہوتا ہے اُس کا اتنا ہی کام ہوتا ہے کہ وہ دیکھ لے کہ آپس میں نہ لڑیں یا باہر سے دشمن آوے تو اس کا انتظام کریں۔یہ ایسی حکومت ہوتی ہے کہ قادیان کی اپنی ہو۔دہلی کی اپنی۔لاہور کی اپنی گویا ہر شہر کی اپنی حکومت ہوتی ہے (۹) حکومت شیوخ ہے۔اس میں بوڑھے تجربہ کار لوگ حکومت کرتے ہیں۔عربوں میں یہی طریق حکومت تھا۔چالیس برس سے اوپر کی عمر کے لوگوں کا انتخاب کر لیا جاتا ہے۔(۱۰) دسویں شاخ اسلامی حکومت ہے کہ وہ ان میں سے کسی میں شامل نہیں ہے بلکہ اس نے سب سے لیا ہے اور تمام خوبیوں پر مشتمل ہے۔محدود۔غیر محدود۔امراء عقلاء۔نیابتی۔اور شیوخ سب کو اس نے جمع کیا ہے اس لئے بہترین حکومت ہے۔(۱۱) بحث۔حکومت اور مذہب کے تعلقات کیا ہیں۔کس حد تک مذہب کو بادشاہت کے ماتحت رہنا چاہیئے اور کس حد تک بادشاہت کو۔(۱۲) بحث یہ ہے کہ حکومت میں عورتوں کا کس قدر دخل ہے۔(۱۳) بحث۔نو آبادیات کے متعلق ہے کہ کس طرح قائم کی جائیں۔نو آبادیوں اور ملکوں کے کیا تعلقات