اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 99

99 99 ہوں۔(۱۴) بحث۔دو بادشاہوں کے تعلقات کس قسم کے ہوں۔(۱۵) بحث۔تعلقات بین الاقوام مختلف قوموں کے باہمی تعلقات کس قسم کے ہوں، ان میں باہم تنازعات ہوں تو فیصلہ کس طرح پر ہو، ہر ایک اُن میں اپنے قائم مقام چنتا ہے اس کے متعلق کچھ اصول ہیں اور وہ قانون بین الاقوامی کہلاتا ہے اس کے مطابق فیصلے ہوتے ہیں۔(۱۶) بحث۔نیابتی حکومت کرنے والے آپ حاکم ہیں یا نہیں۔اس میں بتایا گیا ہے کہ نیا بتی حکومت والے در اصل حاکم نہیں بلکہ ان کو نیابت مل گئی ہے جیسے عراق کا بادشاہ ہے۔دراصل اس کی حکومت لیگ آف نیشنز کے سپرد ہے اور لیگ نے اُسے انگریزوں کے سپرد کر دیا ہے۔(۱۷) بحث۔دوحکومتوں کے علاقے کی حد بندی ہے اس میں یہ بحث ہوگی کہ کون سے ایسے قوانین ہوں کہ جس سے حد بندی ہو سکے۔اس میں دیکھا جائے گا کہ کس قوم کے لوگ بستے ہیں اور کس کو فلاں حصہ دیا جائے تو نقصان ہوگا۔(۱۸) بحث یہ ہوگی کہ حکومت کا انتظام کس طرح پر ہو۔اس کی پھر بہت سی شاخیں ہیں۔(۱) ایک نظام مرکزی ہے۔بعض کہتے ہیں کہ دوسروں کو بھی اختیارات دیئے جائیں۔جیسے یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ پنجاب۔برما۔یو پی وغیرہ کو اختیارات دیئے۔گورنر بنا دیئے۔پھر ایک صوبہ میں کمشنر اور ڈپٹی کمشنر وغیرہ ہیں۔اور بعض یہ کہتے ہیں کہ تمام اختیارات مرکزی کو ہی رہیں۔گویا نظام مرکزی کے متعلق دو حصے ہیں مکمل اختیارات مرکز کو ہوں یا دوسروں کو بھی ہوں۔تیسری بحث اس میں پولیس کے متعلق ہے کہ کیا اختیارات ہوں۔چوتھا محکمہ تجس کا ہے جس کو سی۔آئی۔ڈی کہتے ہیں جس کے ذریعہ حالات کا علم ہوتا رہے۔پانچواں محکمہ جنگلات ہے۔جنگلات کو کس حد تک محفوظ رکھا جائے اور کس حد تک جنگلات کو کاٹ کر زرعی آبادیوں کی صورت میں منتقل کیا جائے۔بہت سی تفاصیل اس میں ہیں۔چھٹا محکمہ محکمہ تعلیم ہے۔اس میں بحث ہوگی کہ تعلیم کس طرح ہو، مفت یا قیمت پر، انتظام تعلیم کس طرح پر ہو، پھر لازمی ہو یا اختیاری، پھر اس صیغہ کی بہت سی شاخیں ہیں، زنانہ تعلیم، مردانہ تعلیم مختلف علوم کی تعلیم۔