اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 77

77 ہوتے ہیں۔یاوہ اصول جو رسول کی معرفت بتائے جاتے ہیں کسی حد تک انکے بیان کی ضرورت ہوتی ہے اور کس حد تک اجازت ہوتی ہے۔یہ تفصیل ہوگی۔یعنی شریعت کے اصولوں کے بیان کرنے میں کس حد تک رسول کے اختیار میں ہے اور کس حد تک اس کو دوسرے لوگوں پر رکھا گیا ہے۔ساتواں علم اختلاف المذاہب کا ہے۔اس علم کے ذریعہ معلوم ہوگا کہ مسلمانوں کے مختلف فرقوں میں جو اختلافات ہیں وہ کس قسم کے ہیں۔عقائد کے لحاظ سے مسلمانوں میں جو فرقے ہیں اُن میں ایک دوسرے کے عقائد کے لحاظ سے کیا اختلاف ہے۔مثلاً ایک سنی کہلاتے ہیں۔جن میں حنفی۔مانگی جنبہی۔شافعی۔سب داخل ہیں۔دوسرے شیعہ ہیں۔سنیوں اور شیعوں کا بڑا اختلاف مسئلہ خلافت کے متعلق ہے۔مسئلہ خلافت کے متعلق پھر بحث ہوگی کہ خلافت ہے یا نہیں۔ہے تو کس حد تک ماننا ضروری ہے اور پھر خلافت انتخاب سے ہوگی یا اولا د سے؟ دوسرا مسئلہ اختلاف کا یہ ہے کہ قرآن مجید کی وحی لفظوں میں ہے یا یہ خیالات اور اس کا مضمون وحی ہوا؟ اس ضمن میں خدا تعالیٰ کی صفات پر بحث ہے کہ کیا خدا کلام کر سکتا ہے یا اُس کا بولنا اور سنا اور ہے؟ تیسرا اختلاف اس بات پر ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام کے مقابلہ میں رسول کا بھی کوئی حق ہوتا ہے یا نہیں؟ یہ اصول ہیں جو خلفاء کے ماننے والے لوگوں میں اور جو خلفاء کے متعلق اختلاف کرتے ہیں قابل غور ہیں۔دوسرا فر قہ خارجیوں کا ہے۔اُن کا عقیدہ ہے کہ رسول اللہ کے بعد کوئی خلافت نہیں۔وہ کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ چاہئے تھی اور یہ بھی ان کا خیال ہے کہ گناہ کے بعد ضرور جہنم میں جانا ہوگا۔شفاعت نہ ہوگی۔اُن کے فرقہ کی اصل بنیاد یہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد نعوذ بااللہ غلطی کی جو خلیفہ مقرر کیا۔خوارج حضرت حضرت علی کرم اللہ وجہ کے وقت میں ہوئے ہیں۔صلى تیسرا فرقہ معتزلی ہے۔عمر بن عمیر نے بنایا اُن کا خیال ہے کہ عقل خدا نے دی ہے اس سے کام لیا جائے۔یہ لوگ صفات تقدیر اور کلام کے منکر ہیں۔چوتھا فرقہ شیعہ کا ہے ان کا عقیدہ یہ تھا کہ امت میں ایک شخص ہو جو امام ہو اور یہ آپ کی اولاد کا حق تھا۔آنحضرت ﷺ کے بعد حضرت علی اور پھر حضرت علی کی اولاد کا حق ہے۔یہ فرقہ خصوصیت سے خلفاء کا