اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 49
49 رو پے کو بیچ کر وہاں سے فلاں چیز خرید کر پھر آگرے جاؤں گا اور آگرہ میں میرے چار سو کے آٹھ سو ہو جاویں گے۔پھر میں آگرے سے فلاں چیز خریدوں گا جو پشاور میں مہنگی بکتی ہے اور وہاں جا کر بیچوں گا تو سولہ سو بن جاویں گے ، ان بزرگ کو کشف کے ذریعے یہ حال معلوم ہو گیا انہوں نے نماز تو ڑ کر الگ پڑھنی شروع کر دی۔امام نے نماز پڑھ کر بہت ڈانٹنا شروع کیا یہ بڑا جرم ہے، حرام ہے، وہ بزگ کہنے لگے کہ میں کمزور ہوں میری ٹانگوں میں اتنی طاقت نہیں تھی۔پہلے میں آپ کے ساتھ دہلی گیا، میں نے کہا اچھا امام صاحب جاتے ہیں تو میں بھی اُن کے ساتھ چلا جاتا ہوں مگر آپ وہاں سے آگرے گئے: ہاں بھی میں آپ کے ساتھ گیا لیکن جب آپ اگرے سے پشاور جانے کو تیار ہو گئے تو میں نے نماز توڑ کر علیحدہ پڑھنی شروع کر دی۔یہ بات سنکر امام بہت شرمند و ہوا اس لئے نماز پڑھتے وقت تین باتوں کا خیال رکھنا چاہیئے:۔(۱) یہ کہ فقط خدا کے لئے پڑھو۔(۲) کہ دل لگا کر توجہ سے پڑھو۔(۳) یہ کہ فرضوں کے علاوہ منتیں خدا کا تعلق بڑھاتی ہیں۔سنتیں ضرور پڑھنی چاہئیں۔کامل عرفان خدا کے نفلوں کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔یہ فضل تو ایک نعمت ہیں اس میں ہمارا ہی فائدہ ہے۔خدا کے انعام کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی کسی کے گھر جاوے اور اس کے بچوں کے لئے کوئی تحفہ لے جاوے اور وہ قبول کر لیوے تو وہ بہت شکر گزار ہوتا ہے کہ آپ نے یہ قبول کر لیا میں اس کے بدلے میں یہ انعام آپ کو دیتا ہوں۔تو نماز پڑھنے سے صفائی اور فائدہ ہمارا ہی ہے مگر خدا اور انعام دیتا ہے۔نفلوں میں سے ایک بہت بڑا نفل تمجید ہے۔نفس کے ٹوڑنے کے لئے تہجد بہت ضروری ہے۔یہ نماز مردوں کے علاوہ عورتوں کو بھی پڑھنی چاہیئے۔حضرت محمد ﷺ نے فرمایا کہ جب رات کو مرداٹھے تو وہ عورت کو بھی اُٹھاوے اور جو کوئی نہ اُٹھے تو دوسرانہ اُٹھنے والے پر پانی کے چھینٹے مارے ایسا گھر بہت ہی مبارک ہے۔یادرکھو تکلیف اُٹھانے سے ہی انعام ملا کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ کیا ہے وہ یو نبی نہیں مل جاتی۔اس نماز میں فرضوں کے علاوہ فل بھی پڑھنے چاہئیں اور نفلوں میں سب سے بہتر تہجد ہے۔اگر تم رات کو بچے کی خاطر جاگتے ہو محض اس لئے کہ یہ بڑا ہو کر ہمارا نام روشن کرے گا تو کیا تم خدا کی خاطر نہیں جاگ سکتیں۔خدا کے لئے جاگنے سے ہمیشہ نام یا درہتا ہے۔اور اگر تم رات کواللہ کی خاطر ایک گھنٹہ جا گوتو دائی زندگی حاصل ہو جاتی ہے۔