اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 437 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 437

437 حیران رہ جاتا ہے کہ میں اس طرح فیصلہ کروں یا اُس طرح۔حالانکہ مومنوں کے مقدمات کا بڑی آسانی سے فیصلہ ہو جانا چاہئے۔قرآن کریم نے ہر مومن کو سچائی سے کام لینے کی تاکید فرمائی ہے بلکہ قرآن کریم نے تو یہاں تک کہا ہے کہ تمھیں صرف سچ سے ہی نہیں بلکہ سداد سے بھی کام لینا چاہیئے۔یعنی تمھاری طرف سے جو بات پیش ہو وہ صرف بچی ہی نہ ہو بلکہ اس میں کسی قسم کا بیچ بھی نہ ہو۔کئی باتیں بھی تو ہوتی ہیں مگر بیچ کے ساتھ جھوٹ بنادی جاتی ہیں۔اس لئے قرآن کریم نے صدق وسداد دونوں سے کام لینے کی نصیحت فرمائی ہے۔چار صیحتیں : صیحتیں آپ لوگوں کو کرنے کے بعد میں دعا کے ساتھ آپ سب کو رخصت کرتا ہوں۔اگر لوگ ان باتوں پر عمل کرلیں گے تو پھر خدا تعالئے آپ لوگوں کی تبلیغ میں بھی برکت پیدا کر دے گا۔آپ کے کاموں میں بھی برکت پیدا کر دے گا۔اور اسلام کی فتح کو قریب سے قریب ترلے آئے گا۔یہ چار دیوار میں ہیں جن پر اسلام کی عمارت قائم ہے۔میں اب دعا کر کے آپ لوگوں کو رخصت کرتا ہوں۔دعا میں اس امر کا خیال رکھا جائے کہ جہاں اپنے لئے اور اپنے رشتہ داروں کے لئے بھی دعائیں کی جائیں وہاں اسلام اور احمدیت کی ترقی کے لئے اور ان مبلغین کی کامیابی کے لئے دعائیں کی جائیں جو اسلام کی خدمت کے لئے دور دراز ملکوں میں گئے ہوئے ہیں۔ایسے ایسے ملکوں میں جہاں انہیں کسی قسم کی راحت اور آرام کے سامان میسر نہیں۔اُن کی باتیں سننے والا کوئی نہیں۔ان کے ساتھ ہمدردی کرنے والا کوئی نہیں۔ان کے بوجھ کو ہٹانے والا کوئی نہیں مگر پھر بھی وہ رات دن اسلام کی خدمت میں مشغول رہتے ہیں۔حکومتیں ان کی دشمن ہیں۔پبلک ان کی مخالف ہے۔سوسائٹی ان کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتی۔غرض ہر طبقہ کے لوگ ان کی مخالفت کرتے ہیں مگر وہ اسلام اور احمدیت کی تعلیم برا برلوگوں تک پہنچاتے چلے جاتے ہیں۔پس آپ لوگوں کا فرض ہے کہ جہاں آپ اسلام کی ترقی کے لئے جو کچھ کر سکتے ہوں اس سے دریغ نہ کریں وہاں ان زیادہ قربانی کرنے والے مبلغین کے لئے بھی دعائیں کریں۔اس اجتماع کے موقع پر مجھے دعا کے لئے بہت ہی تاریں موصول ہوئی ہیں مگر میں وہ تاریں اب سنا نہیں سکتا۔صرف اسی قدر کہنے پر اکتفا کرتا ہوں کہ ان سب دوستوں کے لئے دعائیں کی جائیں بالخصوص مبلغین