اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 438
438 کے لئے کہ وہ خاص دعاؤں کے محتاج ہیں۔بلکہ انہیں دعاؤں کا محتاج کہنا بھی درست نہیں۔درحقیقت ان کے لئے دعا کرنا ہمارا اپنا غرض ہے کیونکہ وہ ہمارا کام کرنے کے لئے اپنے وطنوں کو چھوڑ کر گئے ہوئے ہیں۔اور ہم پر اُن کا ایک ایسا حق قائم ہو چکا ہے جو کامل طور پر دعائیں اور التجائیں کر کے ہی ہم ادا کر سکتے ہیں۔ان کے سوا ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہیں۔جس سے ان کا یہ حق ادا ہو سکے۔اب میں دعا کروں گا آپ لوگوں کے لئے ، اسلام اور احمدیت کے لئے بھی۔آپ میرے لئے بھی اور سلسلہ کے مبلغین کے لئے بھی دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں کو بار آور فرمائے۔پھر خاص طور پر اس امر کے لئے دعائیں کی جائیں جو چار باتیں میں نے اس وقت بیان کی ہیں ہماری جماعت کو اس پر قائم ہونے کی توفیق مل جائے۔یعنی نماز با جماعت کی پابندی سوائے کسی خاص مجبوری کے۔یہاں تک کہ اگر گھر میں بھی فرض نماز پڑھی جائے تو اپنے بیوی بچوں کو شامل کر کے نماز باجماعت ادا کی جائے۔دوسرے سچائی پر قیام۔ایسی سچائی کہ دشمن بھی اسے دیکھ کر حیران رہ جائے۔تیسرے محنت کی عادت ایسی محنت کہ بہانہ سازی اور عذر تراشی کی روح ہماری جماعت میں سے بالکل مٹ جائے۔اور جس کے سپر دکوئی کام کیا جائے وہی اس کام کو پوری تن دہی سے سرانجام دے یا اس کام میں فنا ہو جائے۔چوتھے عورتوں کی اصلاح۔ہر جگہ لجنہ اماء اللہ کا قیام اور عورتوں میں دینی تعلیم پھیلانے کی کوشش۔یہ چار چیزیں ہیں جن کے متعلق میں نے اس وقت توجہ دلائی ہے۔آپ لوگ دعا کریں کہ اللہ تعالے آپ سب کو ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے تا کہ اگلے سال جب آپ جلسہ سالانہ پر آئیں تو آپ میں سے ہر شخص اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکے کہ ہم نے ان باتوں پر عمل کر لیا ہے۔بلکہ دل پر ہاتھ رکھنے کا سوال ہی نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ آپ لوگ ان باتوں پر عمل کر لیں گے تو خود بخود ایسے تغیرات پیدا ہوں گے کہ آپ لوگوں کی کسی گواہی کی ضرورت ہی نہیں رہے گی خدا اور اس کے فرشتے خود گواہی دیں گے کہ آپ نے ان باتوں پر عمل کیا ہے۔اب میں دعا کرتا ہوں۔اس کے بعد حضور نے لمبی دعافرمائی اور پھر السلام علیکم کہ کر دوستوں کو رخصت کی اجازت مرحمت فرمائی۔