اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 432 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 432

432 اپنے ایمان کے مقابلہ میں کسی کی پرواہ نہیں کرنی چاہیئے۔سید احمد صاحب بریلوی جو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے پہلے مجدد تھے جب وہ حج کے لئے گئے تو ان کے قافلہ میں سو کے قریب ایسی عورتیں بھی تھیں جو کہ کبھی گھر سے باہر بے پردہ نہ نکلی تھیں۔جب وہ باہر جاتیں تو ان کے کمرے میں ڈولی لے جائی جاتی اور وہ وہیں سے سوار ہو کر باہر نکلتیں۔اور اگر کبھی انہیں ایک گلی سے دوسری گلی میں جانا ہوتا تو پہلے بہت سے پردے کئے جاتے تب وہ اس جگہ سے گزرتیں۔یہ سو عورتیں جب حج کے لئے مکہ پہنچیں اور خانہ کعبہ میں طواف کا وقت آیا تو سید احمد صاحب نے کہا۔اے بہنو! جس خدا کا یہ حکم تھا کہ تم پردہ کیا کرو اسی خدا کا اب یہ حکم ہے کہ تم یہاں طواف کے وقت پردہ نہ کرو۔تاریخ بتاتی ہے کہ تمام کی تمام عورتوں نے اسی وقت نقاب چہرہ پر سے الٹ دیئے اور کوئی ایک لفظ بھی منہ سے نہ نکالا۔سید ایمان تیرھویں صدی کی عورتوں میں تھا جن کے پاس نور کا ایسا سر چشمہ نہ تھا جیسا تمھارے پاس ہے اور انہوں نے اس قدر نشانات اور معجزات نہیں دیکھے تھے جتنے تم نے دیکھے ہیں۔پھر کیا وجہ ہے کہ تم ستی کو ترک نہیں کر سکتیں۔اگر تم تبلیغ نہیں کرو گی تو اور کون کرے گا۔مرد تو عورتوں کو ان کے پردہ کی وجہ سے تبلیغ نہیں کر سکتے۔اگر تم بھی ان کو تبلیغ نہ کرو تو عورتوں میں احمدیت کس طرح پھیلے گی۔جو عورتیں بے پردہو چکی ہیں ان کو دین سے کوئی دلچسپی نہیں رہی۔وہ تو بے دین ہو چکی ہیں۔اور نہ ہی دینی باتیں سننے کے لئے تیار ہیں۔دین کی باتیں پردہ دار عورتیں ہی زیادہ کر سکیں گی۔اور ان تک تم ہی پہنچ سکتی ہو۔پس تم پر بھی تبلیغ اسی طرح فرض ہے جس طرح مردوں پر فرض ہے۔اگر تم دینی کاموں میں مردوں کے ساتھ ساتھ نہیں چلو گی تو تم جماعت کا مفید جزو نہیں بلکہ پھوڑے کی طرح ہوگی جو انسان کو اس کے فرائض سر انجام دینے سے روک دیتا ہے۔پھوڑا نکلنے کی وجہ سے بے شک کچھ گوشت بڑھ جاتا ہے لیکن وہ جسم کی طاقت بڑھانے کا موجب نہیں ہوتا بلکہ بیماری کی علامت ہوتی ہے اور کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ پھوڑا اس کے جسم کا جزو بنا رہا ہے۔اسی طرح ہم بھی یہ پسند نہیں کرتے کہ ہماری عورتیں گندے عضو کی طرح ہمارے باقی جسم کو بھی خراب کریں ، اگر وہ ایسی رہیں گی تو یقینا اس قابل ہوں گی کہ انہیں جسم سے علیحد ہ کر دیا جائے۔پس تم اپنی مستیوں اور غفلتوں کو ترک کرو اور اپنے آپ کو احمدیت کے لئے ایک مفید جز و بناؤ اور تم کو یہ عزم کر لینا چاہیئے کہ یا تو ہم احمدیت قائم کر دیں گی یا مر جائیں گی۔