اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 396

396 میں کامیاب ہو سکیں گی۔شاید عورتیں آج سے پانچ سال پہلے منظم ہو جاتیں اگر مرکزی دفتر میں مستقل طور پر کام کرنے والی کلرک عورتیں مقرر ہوتیں جو باقاعدہ باہر کی عورتوں سے خط و کتابت کرتیں۔پس میں لجنہ اماء اللہ مرکزیہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ جنوری ۱۹۴۵ میں وہ اپنے کام کی سکیم مرتب کر لیں اور ایسی کلرک عورتیں اپنے دفتر میں مقرر کریں جن کا یہ کام ہو کہ وہ ہر روز بیرونجات کی عورتوں سے خط و کتابت کریں۔اور جہاں کے پتے اُن کو معلوم نہ ہوں صدر انجمن احمدیہ کے ذریعہ سے وہاں کے مرد سیکرٹریوں کے پتے دریافت کر کے اُن کو خط لکھ کر وہاں کی عورتوں کے متعلق دریافت کرلیں اور پھر ان عورتوں سے خط و کتابت کر کے وہاں لجنہ قائم کریں۔اس طرح جب ہر جگہ لجنہ اماءاللہ قائم ہو جائے گی تو اُن کی ضرورتوں کا لجنہ مرکز یہ کوعلم ہوتا رہے گا اور اُن کی اصلاح اور تربیت کی طرف توجہ ہو سکے گی۔اگر کسی جگہ قرآن مجید جاننے والی کوئی عورت نہ ہو گی تو وہاں کی عورتیں لجنہ مرکز کو یہ لکھیں گی کہ ہمارے لئے استانی مقرر کرو جو ہمیں قرآن شریف پڑھائے۔اگر کسی جگہ اُردو جاننے والی کوئی عورت نہیں ہوگی تو وہاں کی عورتیں لجنہ مرکزیہ کو لکھیں گی کہ کسی اُستانی کا انتظام کیا جائے جو میں اردو پڑھائے تا کہ ہم سلسلہ کے اخبار اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب پڑھ سکیں۔تو وہاں کی لجنہ مرکزی لجنہ سے خط و کتابت کر کے اپنی ضرورتیں اُن کے سامنے بیان کرے گی۔اور لجنہ مرکزیہ کا کام ہوگا کہ اُن کی اس قسم کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی کوشش کرے۔پس جب تک عورتوں کی تربیت کے مسئلہ کو حل نہیں کیا جائے گا اُس وقت تک کام نہیں بن سکتا۔عورت نہایت قیمتی ہیرا ہے لیکن اگر اس کی تربیت نہ ہو تو اس کی قیمت کچے شیشہ کے برابر بھی نہیں۔کیونکہ شیشہ تو پھر بھی کسی نہ کسی کام آ سکتا ہے لیکن اُس عورت کی کوئی قیمت نہیں جس کی تعلیم و تربیت اچھی نہ ہو۔اور وہ دین کے کسی کام نہ آسکے۔پس جب تک افراد کی درستی نہ ہو اس وقت تک قوم کبھی درست نہیں ہو سکتی کیونکہ قوم افراد کے مجموعہ کا نام ہے پس لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے بہت بڑا کام کرنا ہے جو یہ ہے کہ جماعت کی تمام عورتوں کو اس قابل بنادیا جائے کہ وہ دین کی باتوں کو پڑھ کر ان پرغور کرسکیں اور اُن کوسمجھ سکیں۔جب دینی باتوں کی تفصیلات پر غور کرنے کا مادہ اُن کے اندر پیدا ہو جائے گا اس کے بعد پھر یہ امید ہو سکتی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھ سکیں اور دین کے لئے مفید کام کر سکیں۔جس طرح انسان کا ہاتھ ہی ہوتا ہے جو سارے کام کرتا ہے۔لیکن بندھا ہوا یا زخمی ہاتھ کیا کام کر سکتا ہے۔اسی طرح عورتیں بے شک قیمتی اور مفید وجود ہیں