اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 375 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 375

375 عورتوں کی دینی تعلیم و تربیت کے طریق (بیان فرموده حضرت خليفة المسيح الثاني رضى الله عنه) کچھ عرصہ ہوا حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنی مجلس میں عورتوں کی دینی تعلیم وتربیت کے متعلق تقریر فرمائی جو مستورات کے پڑھنے اور عمل کرنے کے لئے درج ذیل کی جاتی ہے:۔فرمایا:۔تربیت کا اصل طریق تو یہی ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے اس سے عورتوں کو پوری طرح آگاہ کر دیا جائے۔اس فرض کے لئے سب سے پہلے عورتوں کو قرآن شریف پڑھنا چاہیئے۔میں نے دیکھا ہے جتنی تربیت علم سے ہوتی ہے اتنی کسی اور چیز سے نہیں ہوتی۔علم ہی ایک ایسی چیز ہے جس سے کئی باتیں جو علم نہ ہونے کی صورت میں بڑی جدو جہد کے بعد بھی پیدا نہیں ہو تیں یا اگر ہوتی ہیں تو بڑی مشکل سے نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ انسان کے اندر پیدا ہو جاتی ہیں۔پس میرے نزدیک عورتوں کی تربیت میں جو چیز سب سے زیادہ مد ہو سکتی ہے وہ علم ہے اور اس سے کئی قسم کے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔چنانچہ پہلی بات تو یہ ہے کہ علم خود اپنی ذات میں انسان کی تربیت کر نیوالی چیز ہے۔علم صحیح خیالات کے پیدا کرنے میں مددیتا ہے۔اور بتاتا ہے کہ کونسی بات اچھی ہے اور کوئی بری۔دوسرے جب انسان کو لکھنا پڑھنا آجاتا ہے تو پھر اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اُس کے شامل حال ہو تو اُسے ایسی کتابیں پڑھنے کی توفیق مل جاتی ہے جن میں وہ باتیں درج ہوتی ہیں جو تربیتی نقطہ نگاہ سے ضروری ہوتی ہیں۔گویا علاوہ قرآن شریف پڑھنے کے یا ان کتب کے پڑھنے کے جن میں رسول کریم ﷺ کی باتیں درج ہیں۔یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی لکھی ہوئی کتب ہیں۔اور وہ نیک اور عالم لوگوں کی لکھی ہوئی کتابوں سے بھی فائدہ حاصل کر لیتا ہے۔پھر علم سے اس بات کا بھی امتیاز ہو جاتا ہے کہ کیا کیا خرابیاں ہوتی ہیں اور ان خرابیوں کا کیسا عبرتناک انجام ہوتا ہے گویا علم سے انسان کو برائیوں کے اسباب اور اُن کے انجام سے واقفیت ہو جاتی ہے۔اسی طرح نیکیوں کے اسباب اور اُن کے حسن انجام سے بھی انسان آگاہ ہو جاتا ہے اور اسی طرح وہ کوشش کرتا ہے کہ میں بدیوں سے بچوں اور نیکی میں ترقی کروں۔پس تربیت کا اصل طریق یہی ہے کہ عورتوں کو قرآن کریم اور حدیث کی تعلیم دی جائے۔