اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 313 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 313

313 تقال ہوتا ہے اور باتیں سیکھتا ہے پانچ چھ سال کی ہوتی ہے۔اس وقت نہ باپ اس کی اصلاح اور نگرانی کر سکتا ہے اور نہ وہ اس عمر میں کسی استاد یا ادب سکھانے والے کے پاس جا سکتا ہے جس سے وہ اخلاق سیکھے۔صرف مان جس کے پاس وہ ہر وقت رہتا ہے اُس کی نگرانی کر سکتی ہے۔اگر ماں بچے کے سامنے جھوٹ بولے گی تو بچہ بھی جھوٹ بولنا سیکھ لے گا اور ماں چوری کرے گی تو بچہ بھی چوری کرنا سیکھ جائیگا اور اگر ماں دین سے بے پروائی اور غفلت اختیار کرے گی تو بچہ بھی دین سے بے پروا اور غافل ہو جائیگا لیکن اگر ماں اسکے سامنے بچ بولے گی تو بچہ بھی سچ بولنے کا عادی ہوگا۔اور اگر ماں دوسروں سے ملتے وقت اخلاق فاضلہ سے پیش آئے گی تو بچے میں بھی اخلاق فاضلہ پیدا ہو جائیں گے۔اگر ماں غریبوں اور مسکینوں پر رحم کرے گی تو بچہ میں بھی رحم کا مادہ پیدا ہو جائے گا۔اگر ماں دیندار اور تقوی شعار ہوگی تو بچہ بھی دیندار اور تقوی شعار ہو جائے گا۔غرض ماؤں کی تربیت پر ہی بچہ کے مستقبل کا انحصار ہوتا ہے اور رسول کریم ﷺ کے اس ارشاد کا کہ جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے یہی مطلب ہے۔دُنیا میں کئی مائیں ایسی ہوتی ہیں جو بچوں کی اچھی تربیت نہیں کرتیں بلکہ بجائے درست کرنے کے بگاڑ دیتی ہیں۔مذہب سے لا پرواہ بنا دیتی ہیں ایسی ماؤں کے قدموں کے نیچے جنت کا ہونا کوئی معنے نہیں رکھتا۔جو او لا دا چھی نہ ہو لوگ اس کی ماں کو بُرا کہیں گے اور اگر اولا د اچھی ہو تو لوگ اس کی ماں کی تعریف کریں گے۔کیونکہ ابتدائی تربیت جس کا اثر بعد کی زندگی پر پڑتا ہے ماں ہی کرتی ہے۔باپ کا نام اس لئے نہیں لیا جاتا کہ اُسے نگرانی کے لئے موقع بہت کم ملتا ہے۔مگر ماں کو ہر وقت نگرانی اور اصلاح کرنے کا موقع ملتا رہتا ہے۔وہ ہر وقت بچہ کے ساتھ رہتی ہے اور بچہ بھی ہر وقت ماں کی امداد کا طالب ہوتا ہے۔بچہ ہر وقت اپنی ماں کا سلوک اور محبت دیکھتا ہے۔پھر وہی عادات جو اس کی ماں کی ہوتی ہیں خواہ اچھی ہوں یا ئمری اس بچہ میں پیدا ہو جاتی ہیں کہ اس کے ذریعے انسان میں ایسا اہم تغیر پیدا ہو جاتا ہے جس کا بعد میں آنے والی زندگی پر بہت بڑا اثر پڑتا ہے۔" (۳۰ جون ۱۹۳۷ء خطبہ نکاح ) " ہمیں اصلاح کی فکر رکھنی چاہیئے ( خطبه جمعه فرموده یکم اپریل ۱۹۳۸ء)۔۔۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عورتوں کے حقوق کی ہمیشہ حفاظت کیا کرتی تھیں اور بعض