اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 312
312 روپے بنتے ہیں۔پس جیسوں کی قدر کرو انہی پیسوں کا بھی بچوں کو کھلاؤ تو صحت اچھی ہوگی۔چھوٹے ہوئے کناری سے کیا فائدہ۔جھوٹا زیور بھی مت خرید و۔پہلے جو گزرا سو گز را اب تم پیشتر اس کے کہ نئے قانون بنائے جائیں پہلے پر عمل کرو۔خواہ مخواہ پھیری والوں سے کوئی سودا نہ خریدو۔پھیری والوں سے جو چیزیں لی جاتی ہیں غیر ضروری ہوتی ہیں۔دیکھو اگر تم کو ضرورت ہوتی تو تم اپنے خاوند کو بازار بھیجتیں اور وہ چیز منگواتیں لیکن پھیری والے کا کپڑا دیکھ کر پسند کرنا ہی بتاتا ہے کہ اصلی ضرورت نہ تھی دیکھ کر پسند آ گیا۔پس یا درکھو کوئی چیز بغیر ضرورت نہ خرید و اور سادہ زندگی بسر کرو میں امید کرتا ہوں خدا کی آواز آنے سے ہی اپنے آپ کو تیار کر لوگی۔شرعی حکم کے ماتحت روزے رکھو۔سوچو تم میں کتنی ایسی ہیں جن کے ذمے روزے تھے اور دوسرے روزے آنے سے پہلے ان روزوں کو پورا کیا۔پس دوسرے روزے آنے سے پہلے اپنے پہلے روزے پورے کرو۔سادہ زندگیاں بناؤ تا تمہارے لڑکے اور لڑکیاں تمہارے نیک نمونے حاصل کریں اور خدا تعالیٰ بھی تم پر رحم کرے اور ایسے ماں باپ جنہوں نے ایسے بچے پیدا کئے وہ ان کے لئے دعا کریں گے اور قوم کے لئے بھی رحمت بنیں گے۔پس تم اپنے اندر احمدیت کی ایسی روح پیدا کرو اور ایسے بیج لے کر جاؤ کہ تمہارے دلوں میں نو راور عرفان پیدا ہو۔اور ایسا بیج ہو کہ تمہارے اندر ایسا پھل لائے جو تم سال بھر کھاؤ اور تمہارے بچوں اور خاوندوں اور تمہارے بہن بھائیوں اور ہمسائیوں کی زندگی سنور جائے۔ماں کی تربیت پر ہی بچہ کی تربیت کا انحصار ہوتا ہے ایک نکاح کے خطبہ میں حضرت طلیقہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ ظاہری طور پر جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے بلکہ یہ ہے کہ ماں کی اچھی تربیت سے جنت مل جاتی ہے اور اگر ماں اچھی تربیت نہ کرے، بچہ کے اخلاق کی اصلاح نہ کرے، اس کو مذہب سے واقف نہ کرے تو بچہ کی حالت تباہ ہو جاتی ہے اور قطعا ایسی ماں کے قدموں کے نیچے جنت نہیں ہوتی۔بے شک باپ معلوم ہوتا ہے، قسیم ہوتا ہے انگران ہوتا ہے وہ اکثر معیشت کی فکر میں گھر سے باہر رہتا ہے اور بہت کم وقت اُسے گھر میں رہنے کے لئے ملتا ہے اور اس تھوڑے سے عرصے میں وہ بچوں کی پوری نگرانی نہیں کر سکتا۔بچے کی وہ عمر جس میں وہ